تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 338

پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تومجھ سے الگ ہوجائے۔مجھے کیا معلوم کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل او رپُرخار بادیہ درپیش ہیں جن کو مَیں نے طے کرناہے پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔جومیرے ہیں وہ مجھ سے جدانہیں ہوسکتے نہ مصیبتوں سے نہ لوگوں کے سبّ و شتم سے۔نہ آسمانی ابتلائوںاورآزمائشوں سے اورجو میرے نہیں وہ عبث دوستی کادم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اوران کاپچھلا حال ان کے پہلے حال سے بدترہوگا۔‘‘ (انوارالاسلام ص ۲۲) غرض قومی ترقی کا ایک ہی گُر ہے اوروہ یہ ہے کہ خداکے لئے اپنے آپ کوفناکردینا۔اوراس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا۔اب میں یہ بتاتاہوں کہ ابتلاء کیوں آتے ہیں ؟ سویاد رکھناچاہیے کہ اول توابتلاء عموماً اس لئے آتے ہیں کہ انسان کاایمان مضبوط ہو۔لیکن اس لئے نہیںکہ خدا تعالیٰ کو اس کاعلم نہیں ہوتا۔بلکہ اس لئے کہ خود انسان کو معلوم نہیں ہوتاکہ میرے ایمان کی کیاحالت ہے۔چنانچہ ایک حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت کی لڑکی سخت بیمار تھی۔وہ روزانہ دعاکیاکرتی تھی کہ اس کی بیماری مجھے لگ جائے اورمیں مرجائو ں۔ایک رات اس کی گائے کامنہ ایک تنگ برتن میں پھنس گیا۔اوروہ اسے برتن سے نکال نہ سکی۔اورگھبراکر اس نے ادھر ادھر دوڑناشروع کردیا۔اس عورت کی آنکھ کھل گئی اور ایک عجیب قسم کی شکل اپنے سامنے دیکھ کر اس نے سمجھا کہ ملک الموت میری جان نکالنے کے لئے آگیا ہے۔اس عورت کانام میستی تھا وہ بے اختیارہوکر کہنے لگی ؎ ملک الموت من نہ میستی ام من یکے پیرزالِ محنتی ام یعنی اے ملک الموت میں میستی نہیں ہوں۔مَیں تو ایک غریب محنت کش بڑھیاہوں اوراپنی لڑکی کی طرف اشارہ کرکے کہا میستی وہ لیٹی ہوئی ہے اس کی جان نکال لے۔ا ب دیکھو و ہ عورت خیال کرتی تھی کہ اسے اپنی لڑکی سے بے انتہامحبت ہے لیکن جب اس نے سمجھا کہ جان نکالنے والا فرشتہ آگیا ہے تومعلوم ہوگیا کہ اسے اتنی محبت نہ تھی کہ وہ اس کے بدلہ میں جان دے دیتی۔یہ ہے تو ایک حکایت لیکن یہ بات کثرت سے پائی جاتی ہے کہ انسان بسا اوقات اپنے خیالات کابھی اچھی طرح اندازہ نہیں لگاسکتا اورجب اس پر ابتلاء آتے ہیں تب اسے معلوم ہوتاہے کہ اس کاکسی چیز سے محبت یانفرت کا دعویٰ کہاں تک صادق تھا۔