تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 339

اسی طرح ابتلاء میں اس لئے بھی ڈالاجاتاہے تالوگوں کو معلوم ہوجائے کہ فلاں کاایمان کیساہے ورنہ یوں دوسروں کو کیامعلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں کا ایمان پختہ ہے یا نہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی انسان جتنا بڑاہواس پراتنے ہی بڑے ابتلاء آتے ہیں۔اورسب سے زیادہ ابتلاء نبیوں کو آتے ہیں جیساکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایاکہ کربلا یست سیر ہر آنم صد حسینؓ است در گریبانم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ہتک کی ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ لصلوٰۃوالسلام نے اس جگہ اپنے ابتلائوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ تو ایک بار مارے گئے لیکن دشمن مجھے ہروقت مارنے کے درپے رہتے اور ایذائیں دیتے ہیں۔اورمیں ہروقت کربلاکانظارہ دیکھتارہتاہوں۔سولی پرایک دفعہ چڑھ کر مرنا اتنی بڑی بات نہیں جتنی کہ ہروقت ابتلائوں میں پڑے رہنا۔عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع مسیح چونکہ سولی پر چڑھ کر مرگئے اس لئے ان کو خدا کابیٹامان لو۔ہم کہتے ہیں کہ اگریہ بات درست ہے توپھر جولوگ ہر وقت سولی پر چڑھائے جاتے ہیں ان کوکیاماننا چاہیے۔سب ابنیاء کی یہی حالت ہوتی ہے۔اورجب انہیں متواتر تکالیف دی جاتی ہیں تولو گ دیکھ لیتے ہیں کہ ان کا کیساپختہ ایمان ہے۔کہتے ہیں اَلْاِسْتَقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ اورسب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ دشمن بھی خوبی کومان لے اوراس کاانکار نہ کرسکے۔پس اخلاق اور روحانیت کی پختگی کے لئے ابتلائوں کاآنا اوران کے آنے پر صبر و رضاء کا مقام اختیار کرنا ایمان کی تکمیل کے لئے نہایت ضروری ہوتاہے۔اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ کیاجولوگ بدیاں کرتے ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری سزاسے بچ جائیں گے ؟ مَا يَحْكُمُوْنَ۰۰۵ ان کافیصلہ بہت براہے۔تفسیر۔فرمایا۔وہ لوگ جو نارواافعال میں اپنی زندگی بسرکرتے ہیں۔کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ