تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 337

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے متواتربتایاکہ جماعت احمدیہ کوبھی ویسی ہی قربانیا ں کرنی پڑیں گی جیسی پہلے انبیاء کی جماعتو ںکو کرنی پڑیں۔چنانچہ ایک د فعہ آپ نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں نظام الدین کے گھرمیں داخل ہواہوں۔نظام الدین کے معنے ہیں ’’ دین کانظام‘‘اوراس رؤیاکامطلب یہ ہے کہ آخراحمدیہ جماعت ایک دن نظام دین بن جائےگی۔اوردنیا کے اور تمام نظاموں پرغالب آجائے گی۔مگریہ غلبہ کس طرح ہوگا۔اس کے متعلق رؤیا میں آپ فرماتے ہیں ہم اس گھر میں کچھ حسنی طریق پر داخل ہوں گے اور کچھ حسینی طریق پر داخل ہوں گے۔(تذکرہ ایڈیشن دوم ص ۷۸۸،۷۸۹)یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے جوکامیابی حاصل کی وہ صلح سے کی اور حضرت حسینؓ نے جوکامیابی حاصل کی وہ شہادت سے حاصل کی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوبتایاگیا کہ نظام الدین کے مقام پر جماعت پہنچے گی تو سہی مگر کچھ صلح محبت اورپیار سے اور کچھ شہادتوں اورقربانیوں کے ذریعہ۔اگرہم میں سے کو ئی شخص یہ سمجھتاہے کہ بغیر صلح اور محبت اورپیار کے یہ سلسلہ ترقی کرے گا تووہ بھی غلطی کرتاہے۔اوراگر کوئی شخص یہ سمجھتاہے کہ بغیر قربانیوں اور شہادتوں کے یہ سلسلہ ترقی کرے گا تووہ بھی غلطی کرتاہے۔ہمیں کبھی صلح اورآشتی کی طرف جاناپڑے گا اور کبھی حسینی طریق اختیار کرناپڑے گا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے دشمن کے سامنے مرجاناہے مگراس کی بات نہیں ماننی۔یہ دونوں طریق ہمارے لئے مقدر ہیں۔نہ خالی مسیحیت والاسلوک ہمارے لئے مقدر ہے نہ خالی مہدویت والاسلوک ہمارے لئے مقدر ہے۔ایک درمیانی راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا پڑے گا۔ایک غلبہ ہوگا صلح اور محبت اورپیار کے ساتھ اور ایک غلبہ ہوگا قربانیوں کے ساتھ۔اس کے بعد جماعت نظام الدین کے گھر میں داخل ہوگی اور اسے کامیابی حاصل ہوگی۔یہی پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ’’ انوار الاسلام‘‘ میں بھی دیا ہے۔آپؑ تحریرفرماتے ہیں :۔’’ مجھے اس کی عزت اورجلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیاوآخرت میں اس سے زیادہ کو ئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظت ظاہر ہو۔اس کاجلال چمکے او راس کابول بالاہو۔کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگر چہ ایک ابتلاء نہیں کروڑ ابتلاء ہو ابتلائوں کے میدان میں اوردکھو ں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے ؎ من نہ آنستم کہ روزِ جنگ بینی پُشتِ من آں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے