تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 28
کی عقل اور سمجھ رکھتاہے۔مثلاً اگرسونا ہواورغلہ نہ ہوتو محض سونے سے لوگوں کی بھوک دور نہیں ہوسکے گی یااگر غلہ بھی آجا ئے مگرروٹی پکانی نہیں آتی توپھر بھی انسان بھوکا رہے گا۔ایسی صورت میں ضروری ہوگا کہ کچھ مددگار ہوں کچھ لوگ کمانے والے ہوں اور کچھ لوگ پکانے والے ہوں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مردا ور عورت کا سلسلہ قائم کیا ہے۔غرض کئی قدم ہوتے ہیں جب تک وہ سارے کے سارے مہیانہ ہوں انسان بھوک اور ننگ سے بچ نہیںسکتا۔یہ دور ابتدائے عالم سے چلتا چلاآیا ہے ایک زمانہ ایساتھا۔جب بنی نوع انسان کے پاس ذرائع آمد زیادہ ہوتے تھے اورکم حصہ مجبوریوں میں گرفتار ہوتاتھا۔مثلاً اگر ہاتھ پائوں کٹے ہوئے لوگوں کو دیکھا جائے یاان لوگوں کی تعداد معلوم کی جائے جو بڑھا پے اور بیمار یوں کی وجہ سے کسی کام کے قابل نہیں رہتے تووہ کتنے ہوں گے۔میں سمجھتاہوں کہ وہ ایک دوفیصدی سے زیادہ نہیں ہوں گے۔لیکن کام نہ ملنے کی وجہ سے ہزار میں سے نوسوبھی بیکارہوسکتے ہیں۔جب کسی ملک کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔لیکن ذرائع آمد ترقی نہیں کرتے تودس میں سے بعض دفعہ نو بیکار پھرتے ہیں۔مگر اس لئے نہیں کہ وہ معذو رہوتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہیں کام نہیں ملتا۔پس جب دنیاکی آباد ی بڑھ گئی۔تویہ سوال نہ رہا کہ زمین میں سے دولت کس طرح نکالی جائے بلکہ اس سوال کی صورت بالکل بد ل گئی۔کیونکہ بعض لوگ ایسے تھے کہ باوجود اپناسار ازور صرف کرنے کے کام سے محروم رہتے تھے۔ایسی حالت میں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ نئے کام نکالے جائیں۔غرض یہ دور اسی طرح چلتے چلے آئے ہیں اوردنیا نے فقر و فاقہ کی تکالیف دورکرنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کیں۔چنانچہ کبھی ایسا دو ر آیا کہ لوگوں نے یہ فیصلہ کردیا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں اور کچھ لو گ ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتے۔جیسے ہندوستا ن میں شودروں کی کثرت تھی مگر برہمنوں اورکھشتریوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں کہ دنیا میں زندہ رہیں۔یہ اگر مرتے ہیں تو بیشک مریں۔چنانچہ انہوں نے لوٹ ما رشروع کردی اورشودروں کا کوئی حق متمدن زندگی میں تسلیم نہ کیاگیا۔پھر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس مصیبت کا علاج صدقہ و خیرات ہے۔جن کے پاس زیادہ مال ہو انہیں چاہیے کہ و ہ غر باء کی مدد کردیا کریں۔غرض مختلف تدابیر اپنے اپنے رنگ میں اختیار کی گئیں۔مگر کوئی بھی تدبیر ایسی کامل نہیں تھی جس سے اس مصیبت کو کلیۃً دورکیا جاسکتا۔اسلام ہی تھا جس نے اس سوال کا صحیح معنوں میں حل کیا۔اوراس نے فیصلہ کیا کہ اس قسم کا صدقہ کوئی چیز نہیں ایک معین اور منظم صورت میں غر با ء کی بہبودی کاانتظام ہوناچاہیے چنانچہ اس کے لئے اس نے زکوٰۃ اور عُشر کا طریق جاری کیا۔جس میںامر اء سے باقاعدہ ایک نظام کے ماتحت روپیہ لیا جاتااورغرباء کی