تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 29

ضروریات پر صرف کیاجاتا۔پھر اس نے خبر گیری کے طریق بھی معین کردیئے یوں تو پہلے بھی حکومتیں ٹیکس لیا کرتی تھیں۔مگر ان کا خرچ معین نہیں تھا۔اسلام نے اول آمد پر ایک مقرر حصہ اداکرنا واجب کردیااوراس امر کافیصلہ کیا کہ امر اء سے بہر حال اتنا روپیہ لے لیاجائے۔دوسری طرف اس نے خرچ معیّن کردیا اوراس طرح غرباء کے گذارہ کی صورت پیداکردی۔آمد اور خرچ سے تعلق رکھنے والے یہ دو نقطے ایسے ہیں جو اسلام سے پہلے اَورکسی قوم میں نہیں پائے جاتے تھے زکوٰۃ یہودیوں میں بھی ہے مگر ناقص صورت میں(دیکھو خروج باب ۲۳ آیت ۱۰و۱۱)۔لیکن ا سلام نے اس قانون کو مدون کرکے ایک ایسا عظیم الشان نظام قائم فرمایا جو ہمارے لئے ہرتاریکی کی گھڑی میں شمع ہدایت کا کام دیتاہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے اس نظام کی پوری اہمیت نہ سمجھی اورلدھیا نے کے بڈھے دریا کی طرح یہ نظام بھی ریت میں غائب ہوگیا۔اورمسلمان اس سے کلیۃً غافل ہوگئے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آکر پہلاکام ہی یہ کیا تھا کہ جائیدادوالوں کو بے جائیداد والوں کا بھائی بنادیا۔انصارؓ جائیدادوں کے مالک تھے اور مہاجرؓ بے جائیداد تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارؓ اورمہاجرینؓ دونوں میں مواخات قائم فرما دی۔اورایک ایک جائیدا دوالے کو ایک ایک بے جائیداد والے سے ملادیا اوراس میں بعض لوگو ںنے اتنا غلّو کیا کہ دولت تو الگ رہی بعض کی اگر دوبیویا ں تھیں توانہوں نے اپنے مہاجر بھائیوںکی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی خاطر اپنی ایک بیوی کو طلاق دینے کے لئے تیار ہیں۔وہ ان سے بے شک شادی کرلیں(بخاری کتاب مناقب الانصار باب اخاء النبی بین المہاجرین والانصار)۔یہ مساوات کی پہلی مثال تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جاتے ہی قائم فرمائی۔کیونکہ حکومت کی بنیاد دراصل مدینہ میں ہی پڑی تھی۔اس زمانہ میں زیادہ دولتیں نہ تھیں یہی صورت تھی کہ امیر اورغریب کو اس طرح ملا دیاجائے کہ ہرشخص کو کھانے کے لئے کوئی چیز مل سکے۔پھر ایک جنگ کے موقعہ پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریق کو استعمال فرمایا۔گواس کی شکل بدل دی۔ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کو معلوم ہواکہ بعض لوگوں کے پاس کھانے کو کوئی چیز نہیں رہی یااگر ہے توبہت ہی کم اوربعض کے پاس کافی چیز یں ہیں۔تویہ صورت حالات دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جس جس کے پاس جوکوئی چیز ہے وہ لے آئے اورایک جگہ جمع کردی جائے۔چنانچہ سب چیزیں لائی گئیں اورآپ نے راشن مقرر کردیا(بخاری کتاب الجہاد والسیر باب حمل الزاد فی الغزو)۔گویایہاں بھی وہی طریق آگیا کہ سب کو کھانا ملناچاہیے۔جب تک ممکن تھا سب لوگ الگ الگ کھاتے رہے مگر