تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 27

ہیں۔لیکن اس کے ہاتھ بھی کٹے ہوئے ہیں اورپیر بھی کٹے ہوئے ہیں تووہ اس دولت سے فائدہ نہیں اٹھاسکے گا۔اورپھر بھی بھوکا اور پیاسارہے گا۔پس ابتدائی زمانہ میں باوجودیکہ دولت موجود تھی دنیا اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتی تھی کیونکہ اسے فنون نہیں آتے تھے جب آدمؑ کے ذریعہ دنیا نے فنون سیکھے اوران کی بھوک اور پیاس اور لباس کی دقّت دور ہوئی توپھر بھی ایک طبقہ ایسا رہ گیا جو ان چیز وں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھاسکتاتھا۔جیسے لولے۔لنگڑے اور اپاہج وغیرہ۔اب چاہے ساری دنیا میں صرف پندرہ آدمی ہوں اوردولولے ہوں پھر بھی دولولے اپنی بھوک اور پیاس کیسے دور کرسکتے ہیں جب تک ان پندرہ میں کوئی نظام موجود نہ ہو اوروہ ان لولوں لنگڑوں کی بھوک اور پیاس دور کرنے کاذمہ وار نہ ہو۔آدمؑ کی نبوت کی بنیاد اصل میں ان بتدائی تعلیموں پر ہی تھی جن سے انسان انسان بنا۔آپ نے بنی نوع انسان کو زبان سکھائی۔مختلف قسم کے فنون کی تعلیم دی۔تمدن کے اصول بتائے۔انہیں بتایاکہ آپس میں مل کررہناچاہیے اوراگر کوئی غریب یالولا لنگڑا ہوتواس کی مدد کرنی چاہیے۔جب اس قسم کی سوسائٹی قائم ہوجائے گی۔توہم کہہ سکیں گے کہ یہ سوسائٹی نہ بھوکی رہے گی نہ ننگی اورنہ پیاسی۔اگر کوئی لولالنگڑاہوگاتودوسرے لوگ اس کی مدد کریں گے۔اوراگرلوگ بھوکے ہوں گے تو و ہ زراعت او رباغبانی اورکان کنی کے ذریعہ اپنی اس تکلیف کودورکرسکیں گے اوراس طرح دنیا کو روپیہ بھی مل جائے گا۔اوران کی تکالیف بھی دور ہوجائیں گی۔پس غربت کامسئلہ اس زمانہ کی پیداوار نہیں بلکہ جب سے انسان اس دنیا میں پیداہواہے اس وقت سے یہ سوال زیر بحث چلاآیاہے۔جب ساری دنیا کے مالک صرف دوچار گھرانے تھے تب بھی غربت موجود تھی اور تب بھی ایک قانون کی ضرورت تھی اسی لئے حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ بنی نوع انسان کو یہ پیغام دیاگیا کہ اگرتم ان قواعد کی پابند ی کرو گے توبھوکے اور پیاسے نہیں رہو گے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ آدمؑ کے زمانہ میں بھی جب صرف چند آدمی تھے ممکن تھا کہ لوگ بھوکے رہیں۔ممکن تھا کہ وہ پیاسے رہیں اورممکن تھا کہ وہ ننگے پھریں۔پھرلوگ بڑھنے شروع ہوئے۔پندرہ سے بیس اوربیس سے سوسوسے ہزار۔ہز ار سے دس ہزار اوردس ہزار سے لاکھ تک تعداد جاپہنچی اوربڑھتے بڑھتے اب تو دواڑہائی ارب تک آباد ی پہنچ چکی ہے۔مگرجیسا کہ میں نے بتایا ہے پندر ہ آدمیوںکی صورت میں بھی دنیا بھوکی اورننگی رہ سکتی تھی۔سو آدمیوں کی صور ت میں بھی دنیا بھوکی اور ننگی رہ سکتی تھی۔ہزا ر او ر لاکھ آدمیوں کی صورت میں بھی دنیا بھوکی اورننگی رہ سکتی تھی۔بھوک اور ننگ کی بنیاد ویلتھ پر نہیں ہوتی یہ ایک غلط خیال ہے جو لوگوں میں پیداہوگیاہے کہ غر بت آبادی کی کثرت کی وجہ سے پیداہوتی ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ غربت اورامارت کادارو مدار اس امر پر ہے کہ قانون قدرت نے زمین میں جو خزانے مخفی رکھے ہیں انسان ان کو کس حد تک استعمال کرتاہے اورکس حد تک ان کے استعمال کرنے