تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 308

چکے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھبرائے کہ ایسانہ ہو یہ ہمیں دیکھ لیں اورانہوں نے آہستگی سے اس خطرہ کااظہار بھی کردیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔اگریہ ہمارے سرپربھی کھڑے ہیں توکیاہوا۔خداہمارے ساتھ ہے بھلا یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں۔حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! مجھے اپنی جان کا فکر نہیںکیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں۔اگرمیں مارابھی جائوں تو صرف ایک فرد ماراجائے گا۔لیکن آپ کوکوئی نقصان پہنچاتو ساراجہان مرجائے گا۔غرض کفار چند منٹ تک ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے اور پھر واپس مکہ میں آگئے۔تیسرے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میںسے نکلے اورمدینہ تشریف لے گئے (السیرة النبویة بخاری کتاب المناقب باب مناقب المھاجرین)۔اب دیکھورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامکہ میں سے نکلناکس شان کے ساتھ ہوا۔یہ اسی دعاکی برکت تھی جواللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو سکھائی گئی تھی اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ مجھے مکہ میں سے نکالیوتواس شان کے ساتھ کہ میرانکلناقیامت تک یادگار رہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔کیاکوئی شخص اس واقعہ کو بھلاسکتاہے کہ وہ لوگ جومارنے کے لئے آتے ہیں جوگھر کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کی صفوں میں سے گذر جاتے ہیں اور انہیں پتہ تک نہیں لگتا۔پھرکھوجی ساتھ جاتاہے وہ نشان بتاتاہے اوربڑے یقین کے ساتھ کہتاہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتویہیں کہیں ہیں اوریاپھر آسمان پر چلے گئے ہیں۔مگروہ اپنے کھوجی پراعتبا ررکھنے کے باوجود اس کی بات کوتسلیم نہیں کرتے آپ کی ادھر ادھر تلاش نہیں کرتے بلکہ ہنستے ہوئے واپس آجاتے ہیں۔اورکہتے ہیں ہمارے کھوجی کی عقل ماری گئی ہے۔پھر اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ والی دعابھی کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔مکہ والوں کی کتنی بڑی طاقت تھی ان کو کتنا بڑااقتدار حاصل تھا۔مگراللہ تعالیٰ نے ان کی ساری طاقت کو توڑ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ میں فاتحانہ طور پرداخل کیا اوراس شان کے ساتھ داخل کیا کہ بڑے بڑے دشمن آپ کی غلامی میں شامل ہوگئے ھندہ جس نے حضرت حمزہؓ کاکلیجہ کٹوایااورمثلہ کیاتھا اورجواسلام کی شدید ترین دشمن تھی اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم تھاکہ اسے قتل کردیاجائے۔مگرجب عورتوں کی بیعت ہونے لگی تووہ بھی چھپ کر ان عورتوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لئے آگئی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے ہوئے عورتوں سے کہا کہ کہوہم شرک نہیں کریں گی توہندہ سے نہ رہاگیا۔اوراس نے کہا یارسول اللہ کیااب بھی ہم شرک کریں گی۔ہم مالدار تھے اورآپ غریب تھے۔ہماراجتھہ تھا۔اورآپ اکیلے تھے اگربتوں کی کوئی بھی حیثیت ہوتی توکیایہ ممکن تھاکہ آپ ہمارے مقابلہ میں جیت جاتے۔جب آپ ہمارے مال او رہماری طاقت اورہماری شوکت اورہمارے جتھہ اورہمارے اثر