تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 307

اوردل میں خیال پیدا ہوتاکہ نہ معلوم یہ نکلناعارضی ہے یامستقل۔اس لئے بجائے نکلنے کاپہلے ذکرکرنے کے اللہ تعالیٰ نے داخل ہونے کاپہلے ذکر کردیاتاکہ آپ کادل مطمئن رہے اورآپ سمجھیں کہ یہ نکلنامحض عارضی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کایہ فیصلہ ہے کہ ہم پھر مکہ میں داخل ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لو رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ کی دعاکس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔آپؐ نکلے توکس شان کے ساتھ نکلے اور آئے توکس شان کے ساتھ آئے۔گھر سے نکلے تواس وقت کفار نے آپ کے گھر کے ارد گرپہرہ لگایاہواتھا۔مگرآپ ان کی آنکھوں کے سامنے نہایت دلیری اورجرأت کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئے۔انہوں نے آپؐ کو دیکھابھی مگرخیال کیا کہ یہ کوئی اَورشخص ہوگا۔اس طرح آپ کفار کی صفوں میںسے نکل گئے اوران کاذہن اس طرف مائل ہی نہیں ہواکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جارہے ہیں بلکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ کو ئی اَورشخص ہے۔پھر وہ ساری رات دروازہ کی دراڑوں میں سے جھانک جھانک کر آپ کو دیکھتے رہے۔اور چونکہ حضرت علیؓ آپ کے بستر پرسوئے ہوئے تھے انہیں کوئی شبہ نہ پڑابلکہ انہوں نے سمجھا کہ آپؐ ہی سوئے ہوئے ہیں اتنے میں صبح ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ بجائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت علیؓ اند رسے نکل آئے ہیں۔یہ بھی ایک بہت بڑانشان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا۔پھر آپ غار ثو رمیں جاکر چھپ رہے جومکہ سے تین چار میل پرے ایک غار ہے۔میں بھی وہاں گیاہوں لیکن میرے دل میں کچھ ایسی کمزوری ہے کہ میں پہاڑ پر نہیں چڑھ سکتا۔ارادہ توتھا کہ جائوں اورغا رثور دیکھو ں مگرسودوسوگز تک جاکر رہ گیا۔اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی کو بھیج دیا۔اس نے جوکیفیت بتائی اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کئی گز کی جگہ ہے اوراس کاخوب کھلااورچوڑامونہہ ہے۔گویا کئی گز چوڑااور کئی گز لمباایک کمرہ ہے۔آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ گئے اور اس غار میں جاکر بیٹھ رہے۔جب صبح ہوئی اورمکہ والوں نے دیکھا کہ آپ کہیں چلے گئے ہیں توانہوں نے مشورہ کیا کہ آپ کاپیچھاکیاجائے۔ادھر انہوں نے اعلان کردیاکہ جوشخص آپؐ کو پکڑ کرلائے گااسے سواونٹ انعام دیاجائے گا۔اس کے بعد انہوں نے کھوجی کو اپنے ساتھ لیا اور آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔کھوجی پائوں کے نشانات کو دیکھتے دیکھتے ان سب کو غار ثور کے مونہہ پر لے کر پہنچ گیا۔اوراس نے کہا کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتویہاں ہیں اوریاپھر آسمان پرچلے گئے ہیں۔اب باوجو د اس کے کہ مکہ والوںکو کھوجیوں پر بڑااعتبار ہواکرتاتھا۔ان کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھیں اورغارثورکواندرسے دیکھ لیں۔حالانکہ وہ کئی گز لمبی اور کئی گز چوڑی جگہ تھی اوراس کامنہ بہت کھلاتھا۔یہ کیسازبردست نشان ہے جواللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا۔وہ اس کی بات کوسن کرہنسنے لگ گئے اورکہنے لگے یہ محض بکواس ہے ہم تمہاری بات پر اعتبار نہیں کرسکتے۔وہ اس وقت اتنے قریب پہنچ