تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 309
و رہمارے اقتدار کے باوجود جیت گئے تواس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے بتوں میں کوئی طاقت نہیں۔یہ وہ عظیم الشان نشان تھا جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ فتح مکہ کے وقت ظاہر ہوا۔اورجس کی لَرَآدُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ میں خبردی گئی تھی۔پھر جب ہم کتب سابقہ کو دیکھتے ہیں توہمیں ان میں بھی یہ پیشگوئی نظرآتی ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوایک دن اپنے وطن سے ہجرت کرنی پڑے گی۔اورپھردس ہزا رقدوسیوں کے ساتھ آپ فاتحانہ طورپرمکہ میں داخل ہوں گے۔چنانچہ آپ کی ہجرت کی خبریسعیاہ باب۲۱ میں پائی جاتی ہے جہاں لکھا ہے:۔’’عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو ! پانی لے کر پیاسے کااستقبال کرنے آئو۔اے تیماکی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کربھاگنے والے کے ملنے کو نکلو کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے۔ننگی تلوار سے اورکھچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اورتیراندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے۔اورخداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔‘‘ (یسعیاہ باب ۲۱آیت ۱۳تا۱۷) اس پیشگوئی میں دوانیوں کے قافلوں اورتیماکی سرزمین کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم روٹی اورپانی لے کر ان لوگوں کا استقبال کرنے کے لئے آگے بڑھو جومخالفین کے جوروستم اوران کی ننگی تلواروں اورکھچی ہوئی کمانوں کاایک لمبے عرصے تک نشانہ بنے رہے۔اورجواب بھاگ کر تمہارے ملک میں پناہ لینے کے لئے آرہے ہیں۔دوان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک پوتے کانام ہے جو آپ کی تیسری بیوی قطور ہ کے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکے لُقیان کی اولاد میں سے تھا۔(پیدائش باب ۲۵آیت ۱و۲) تیما حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نویں بیٹے کانام تھا۔(پیدائش باب ۲۵آیت ۱۶) اورقیدار حضر ت اسماعیل علیہ السلام کے دوسرے بیٹے کانام ہے۔پیدائش باب ۲۵آیت ۶ سے معلوم ہوتاہے کہ بنی اسماعیل اور بنی قطورا دونوں ارض مشرق یعنی عرب میں آباد ہوئے۔چنانچہ دوان کی اولاد پہلے یمن میں آباد ہوئی۔مگرپھر اس کے قبائل عرب میں چاروں طرف پھیل گئے۔اوس اورخزرج بھی اسی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔اسی طرح تیما کی اولاد مدینہ