تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 26

بھوکے اورپیاسے اورننگے رہیں گے پس ایک دولت تواس قسم کی ہوتی ہے جوبالقو ۃ ہوتی ہے۔اگراس ملک کے لوگوں میں صنعت و حرفت نہیں یاانہیں زمینداری کاعلم نہیں توباوجود اس کے کہ وہ کانوں پر بیٹھے ہوں گے اورکروڑوں کروڑ روپیہ کاسونا ان میں موجود ہوگا۔وہ زرخیز زمینوں پر بیٹھے ہوں گے۔ایسی زمینوں پر کہ اگر اس میں ایک دانہ بھی ڈال دیاجائے توسینکڑوں دانے پیداہوں۔لیکن پھر بھی وہ فاقے مررہے ہوں گے گویا ان کے پاس دولت تو ہوگی لیکن ساکن دولت ہوگی۔لیکن اگر دنیا میں کوئی ایسانظام قائم ہو جاتا ہے جولوگوںکو مختلف قسم کے فنون سکھاتاہے خواہ الہام کے ذریعہ سے یاالقائے الٰہی کے ذریعہ سے۔اوروہ کہتاہے کہ آئوہم تمہیں زمینداری کاطریق بتاتے ہیں کپڑابننے کے طریق سکھاتے ہیں یااسی قسم کے اورفنون سکھاتے ہیں جن سے تم اپنی تمدنی حالت کو سدھار سکوتویقیناً اس کے ذریعہ لوگوں کی بھو ک او را ن کی پیاس دورہوجائے گی۔جیسے اسلام کی روایتوں میں خواہ وہ کتنی ہی کمزورکیوں نہ ہو ں یہ آتاہے کہ حضرت آدمؑ نے لوگوں کوزراعت سکھائی۔اور حضرت شیثؑ نے ان کو کپڑابنناسکھایا۔اب چاہے انہیںآدم ؑنے سکھایاہو یا شیثؑ نے یاکسی اَور نے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابتدائی زمانہ میں اس قسم کے امور میں الہام الٰہی مدد کرتاتھا۔جیسے قرآن کریم میں صاف طورپر یہ ذکر آتاہے کہ زبان ابتداء میں الہاماً سکھائی گئی تھی۔چنانچہ فرماتا ہے۔عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا(البقرۃ:۳۲)۔اس سے قیاس کرکے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح ابتدائی زمانہ میں الہام کے ذریعہ زبان کاسکھایاجانا ضروری تھا۔اسی طرح الہام کے ذریعہ انہیں فنون سکھائے جانے بھی ضروری تھے۔ورنہ اس کے بغیرانسان مدتوں تک تکلیف اٹھاتاچلاجاتا۔پس اگر کوئی نبی آجائے اوروہ یہ کہے کہ تم زمین میں ہل چلائو اورکھیتی باڑی کرو۔اسی طرح وہ مختلف قسم کے درخت اورباغات لگانے کی تعلیم دے تویقیناً اس کے نتیجہ میں اس کے ماننے والوںکو روٹی ملنے لگ جائے گی اوروہ لوگ جو نبی کے تابع نہیں ہوں گے اگر وہ زبان سیکھنے سے انکارکردیں گے توگونگے رہیں گے۔اوراگرکھیتی باڑی نہیں کریں گے یاکپڑا بننانہیں سیکھیں گے یاکنوئیں نہیں کھودیں گے توبھوکے اورپیاسے اورننگے رہیں گے۔یہ فنون ابتدائی دور میں خواہ کیسی ہی ابتدائی شکل میں ہوں۔خواہ کھال سے وہ اپنا ننگ ڈھانکتے ہوں یاپھلوں پران کا گذارہ ہوتاہواس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو لوگ اس نظام کے ماتحت آجائیں گے و ہ بھوک اورپیاس اور ننگ سے بچ جائیں گے۔لیکن باوجود اس کے پھر بھی ایک طبقہ ایسا رہ جاتاہے جو غریب ہو۔کیونکہ حوادث آتے ہیں اورانسان کو بے دست و پابنادیتے ہیں۔فرض کرو۔دنیا کے پردہ پر ایک ہی انسان ہے کشمیر بھی ا س کے قبضہ میں ہے۔ہزارہ بھی اس کے قبضہ میں ہے۔کابل کی وادیاں بھی اس کے قبضہ میں ہیں اوراس طرح دنیا کے سارے انگور ساری ناشپاتیاں،سارے سیب اورسارے آم اس کے قبضہ میں