تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 300

کرتاتھا۔اس جگہ خَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ سے یہی مراد ہے کہ ہم نے اس کو اوراس کے سارے خاندان کو دنیا بھر میں ذلیل کردیا۔فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایساذلیل ہواکہ ملک بھر میں کو ئی اس کانام نہ لیتاتھا۔اورکوئی گروہ اس کی مدد کرنے کے لئے نہ نکلا۔وَمَاکَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ۔اورنہ وہ خود اپنی حالت بد ل سکا۔اِنْتَصَرَ کے معنے ہوتے ہیں اِمْتَنَعَ مِنْ عَدُوِّہٖ(اقرب) اپنے دشمن سے بچ گیا۔پس اس کے معنے یہ ہیں کہ نہ وہ بیرونی تدبیرسے اپنی اس ذلت کو مٹاسکااورنہ وہ اپنے علم سے کام لے کر جس پراسے بڑاناز تھا اپنے آپ کو اس تباہی سے بچاسکا۔وَ اَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ يَقُوْلُوْنَ وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَيْكَاَنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۔جب قارون خدائی عذاب کی گرفت میں آگیاتووہ لوگ جو کل تک اس پر رشک کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کاش ہمیں بھی قارون جیسامقام میسر آتا۔ان کی بھی آنکھیں کھل گئیں۔اورکہنے لگے کہ تعجب کی بات ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتاہے وافر رزق عطافرماتا ہے اورجس کوچاہتاہے اسے تنگی میں مبتلاکردیتاہے۔اگراللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتا اورہماری اس کوتاہی کو معاف نہ کرتا کہ ہم نے قارون کو ایک بڑاآدمی سمجھ کر یہ خواہش کرنی شروع کردی تھی کہ کاش ہم بھی ایک دوسرے قارون بن جائیں توآج ہم کو بھی وہ بے نام و نشان کردیتا اور وہی عذاب جواس پر مسلطّ کیاگیا اس میں ہم بھی شریک ہوتے۔اس سے ظاہر ہے کہ مجرموں کی تائید کرنایاان کی پیٹھ ٹھونکنا یاان کے ظالمانہ افعال کی حمایت کر نایا مجرموں کے مقابلہ میں آواز بلند کرنے والوں کی مخالفت کرنابھی انسان کوسزاکامستحق بنادیتاہے۔اوراگروہ توبہ اور استغفار سے کام نہ لیں اوراپنے رویہ کو تر ک نہ کریں توخطرہ ہوتاہے کہ وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔وَيْكَاَنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ میں بتایاکہ انبیاء کے مخالفین کو دنیا میں عارضی کامیابیاں توحاصل ہوسکتی ہیں مگرفلاح جواپنے مقاصد میں بامراد ہونے کانام ہے انہیں کبھی حاصل نہیں ہوتی۔اوروہ نبیوں کے مقابلہ میں ضرور تباہ ہوتے ہیں۔