تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 299
وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا۔جب ان باتوں کا چرچاہوااورقوم کے بعض کمزورافراد نے قارون کی تعریف کرنی شروع کردی بلکہ اس بات پر آہیں بھر نی شروع کردیں کہ انہیں بھی یہ مقام کیوں حاصل نہیں ہواتوحقیقت حال کاعلم رکھنے والوں یعنی علماء اورربّانی لوگوں نے انہیں سمجھایا۔کہ تم اس چندروزہ زندگی پر کیوں مرتے ہو یہ توآج نہیں توکل ختم ہوجائے گی۔دائمی زندگی تووہ ہے جو موت کے بعد شروع ہونے والی ہے اوراس زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان لانے والوں اوراس ایمان کے مطابق عمل کرنے والوں کوجوجزائے نیک ملے گی اس کے مقابلہ میں اس چندروزہ زندگی کامال و متاع کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔اگرسوسال بھی تم نے عیش سے گذار لئے لیکن اگلی زندگی میں جو غیر محدود ہے تمہارے لئے کوئی سکھ کاسامان نہ ہوا تو تمہیں یہ آرام کیافائدہ دے گا؟ تم دائمی سکھ اورآرام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اوراس دنیاسے اپنا دل مت لگائو۔وَ لَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ۔میں بتایاکہ جس طرح اگلے جہان کی جزائے نیک ایک غیر معمولی انعام ہے اسی طرح اس انعام کامستحق بننابھی ایک بڑی قربانی چاہتاہے اوریہ مقام ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوتاہے جوصبر سے کام لیاکرتے ہیں۔صبر کے معنے صرف جزع فزع سے بچنے کے ہی نہیں ہوتے بلکہ بر ے خیالات کا اثر قبو ل کرنے سے رکنے۔ان کامقابلہ کرنے اورنیکیوں پر ثابت قدم رہنے کے بھی ہوتے ہیں۔پس انہوں نے دین کو دنیا پرمقدم کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ یہ مقام تمہیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ تم ان بداثرات کامقابلہ کرو۔جوقارون او ر اس جیسے دوسرے افراد کی دنیوی شان وشوکت کودیکھ کر تمہارے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔اورپھر قارون کی طرح ظلم پر کمربستہ ہونے کی بجائے ہمیشہ بدیوں سے بچتے رہو اور نیکیوں پر پورے ثبات اوراستقلال کے ساتھ قائم رہو۔اگرتم ایساکروگے۔توتمہاری روحانی آنکھیں کھل جائیں گی۔اور تمہیں نظر آنے لگ جائے گا کہ یہ دنیاآخرت کے مقابلہ میں بالکل حقیر اورذلیل چیز ہے۔فَخَسَفْنَابِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ میں بتایاکہ آخرقارون کاپیمانہ لبریز ہوگیا۔اورخدائی عذاب اس پر نازل ہوگیا۔بنی اسرائیل پر اس کے تما م مظالم اس طاقت اورعز ت کی وجہ سے تھے جو فرعون کی خوشنودی کی وجہ سے اسے حاصل تھی۔مگرجب خدا تعالیٰ نے اسے تباہ کرناچاہاتوایساانقلاب پیداہواکہ قارون بھی اوراس کاتمام خاندان بھی ذلیل کردیاگیا۔بائیبل میں لکھا ہے کہ زمین پھٹی اور قارون اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ اس میں غرق ہوگیا(گنتی باب ۱۶ آیت ۳۱،۳۲)۔گویااس کی تباہی ایک زلزلہ کی وجہ سے ہوئی۔اور خَسَفَ کے لفظی معنے زمین میں دھنسنے کے ہی ہیں۔لیکن خَسَفَ فُلَانًا کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اسے ذلیل کردیا۔اوراس کے ساتھ ایساسلوک کیا جسے وہ ناپسند