تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 301

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي یہ (جو )اخروی زندگی(ہے) ہم اسے انہی کے لئے مخصوص کردیتے ہیں جو ملک میں الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ۰۰۸۴ ناجائز غلبہ اورفساد نہیں چاہتے۔اورانجام متقیوں کاہی (اچھا)ہوتاہے۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ اخروی زندگی کے انعامات ہم نے انہی لوگوں کے لئے مخصوص کئے ہوئے ہیں جو نہیں چاہتے کہ لوگوں کو ذلیل کرکے آپ بڑے بن جائیں اور نہ فساد اورفتنہ انگیزی کی روح اپنے اندر رکھتے ہیں۔اورگوابتداء میں یہی سمجھتی ہے کہ امن پسندی سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔کامیابی اورعزت حاصل کرنے کایہی ذریعہ ہے کہ دوسروںکو گرایاجائے اورملک میں شورش پیداکی جائے۔لیکن بڑائی کے آخر وہی مستحق ہوتے ہیں جومتقی ہوں اورانجام ہمیشہ امن پسند اورنیک لوگوں کاہی اچھاہوتاہے۔اور وہی کامیاب ہوتے ہیں۔فتنہ و فساد پھیلانے والے خواہ کچھ عارضی کامیابی حاصل بھی کرلیں پھر بھی ان کاانجام حسرتناک ہوتاہے اوروہ اپنے اعمال کی اس دنیا میں بھی سزاپاتے ہیں اورآخرت میں بھی ذلیل اوررسواہوں گے۔مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ جوشخص پسندیدہ عمل کرے اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اورجوکوئی بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا براعمل کرے گا توبرےاعمال کرنے والوں کو ان کے اپنے عمل کے كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۸۵ برابر جزاء دی جائے گی۔تفسیر۔نیکی اوربدی کی جزاء کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنا قانون بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جو شخص کوئی نیک کام بجالائے اسے اپنے کا م سے بہت زیادہ بدلہ ملتاہے اورجوشخص کوئی براکام کرے۔اسے