تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 298

بِھَا عَنِ الْوَیْلِ کبھی ا س لفظ سے ہلاکت مراد لی جاتی ہے۔جیسے کہتے ہیں وَیْکَ اِسْتَمِعْ قَوْلِیْ۔تُو ہلاک ہو۔میری بات سن۔کبھی کبھی وَیْ کے ساتھ کَاَنْ یا کَاَنَّ بھی داخل کردیتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔خَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ کے یہ معنے ہیں کہ ایک دن وہ بڑی شان و شوکت سے اپنے تمام اہلکاروں اورباڈی گارڈز وغیرہ کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے سے گذرا۔اوراس نے اپنے شاہانہ اقتدار کی نمائش کی اورانہیں دکھایاکہ میری کتنی بڑی عزت ہے اورکس طرح یہ سب لوگ میری رضاء اورخوشنودی کے حصول کے لئے میرے آگے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں اورمجھے سلام کرتے اور میرے سامنے ادب کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس کااپنی قوم کے سامنے اس شاہانہ کرّوفرسے گذرنا درحقیقت اپنی قوم کی تذلیل کے لئے تھا۔اوروہ انہیں دکھاناچاہتاتھاکہ کامیابی کااصل راز فرعون کی اطاعت میں ہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بحیثیت قوم فرعون بنی اسرائیل کادشمن تھا اوروہ ان کی طاقت کو کچلناچاہتاتھا۔مگران کی طاقت کو کچلنے کے لئے اس نے جو ذرائع اختیار کئے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ا س نے بنی اسرائیل میں سے ہی قارون کو سرکاری افسر بنادیاتاکہ ایک طرف تو وہ یہ ظاہر کرے کہ میں بنی اسرائیل کے قابل افراد کی قدرکرتاہوں اوردوسر ی طرف جب وہ اپنے ہی ہم قوم افراد پرظلم کرے تووہ ظلم فرعون کی طرف منسوب ہونے کی بجائے قارون کی طرف منسوب ہوجائے اور لوگ یہ کہیں کہ اس میں فرعون کا کیا قصورہے یہ ظلم تو قارون نے کیا ہے۔انگریز نے بھی اپنے زمانہء اقتدا رمیں ایسا ہی کیاتھا۔اوراس نے بھی ہندوستان پرحکومت کرنے کے زمانہ میں بعض ماتحت افسر خود ہندوستانیوں میں سے مقررکئے ہوئے تھے اوروہ انگریز کی خوشنودی کے لئے حاکم قوم کے افراد سے بھی زیادہ ظلم کرتے تھے۔قارون بھی ایسے ہی ظالم افسروں میں سے تھا۔جس کے پیش نظر ہمیشہ بنی اسرائیل کی تذلیل رہتی تھی۔چنانچہ اسی پروگرام کے ماتحت اس نے ایک دن اپناشاہانہ جلوس نکالا اوربنی اسرائیل کوحکم دیا کہ وہ سب جمع ہوں اوراس نظارہ کو دیکھیں اوراپنی ذلّت اوربیچارگی پر آنسو بہائیں۔قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَایٰلَیْتَ لَنَامِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ۔اِنَّہٗ لَذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ۔چونکہ ہرقوم میں بعض کمزور افراد بھی ہوتے ہیں جودین اور تقویٰ اورخداترسی کی بجائے دنیوی شان و شوکت اور ظاہر ی مال و دولت کوزیادہ اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لئے بنی اسرائیل میں سے کمزورافراد نے قارون کے اس شاہانہ کرّوفرکو دیکھ کر اس پر رشک کیا۔اورانہوں نے کہنا شروع کردیا کہ کاش ہم بھی قارون کی طرح ہوتے۔یہ توبڑاخوش نصیب ہے جس نے اتنا بڑااقتدار حاصل کرلیاہے۔