تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 297
لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ۰۰۸۰وَ قَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ کاایک )بہت بڑاحصہ ملا ہے۔اورجن لوگوں کو علم دیاگیا تھا و ہ بولے۔تمہاراستیاناس! اللہ کی طرف سے ملنے ثَوَابُ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا يُلَقّٰىهَاۤ والی جزا ء مومن اور ایمان کے مناسب حال عمل کرنے والے کے لئے بہت اچھی ہوتی ہے۔اوریہ(جزاء) اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ۰۰۸۱فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا صرف صبرکرنے والوں کاگروہ ہی پاتاہے۔پھر ہم نے اس کو او ر اس کے قبیلہ کو مکروہات میں مبتلاکردیا۔اورکوئی كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ جماعت ایسی نہ نکلی جو اللہ کے سوااس کی مدد کرتی اور کسی تدبیر سے بھی وہ (اپنے دشمن سے )بچ نہ سکا۔اوروہ لوگ جو مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ۰۰۸۲وَ اَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ کل تک اس کے مقام پر ہونے کی تمنا کرتے تھے کہنے لگ گئے تجھ پر ہلاکت ہو اللہ (تعالیٰ)ہی یقیناً بِالْاَمْسِ يَقُوْلُوْنَ وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتاہے رزق میں فراخی دیتاہے اورجس کے لئے چاہتاہے تنگی کرتاہے۔يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا اگرہم پر اللہ(تعالیٰ ) نے احسان نہ کیاہوتاتوہمیں بھی مصیبتوں کاشکارکردیتا۔تجھ پر ہلاکت ہو لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَيْكَاَنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَؒ۰۰۸۳ (بات یہی ہے کہ)کافرکبھی کامیاب نہیں ہوتے۔حل لغات۔وَیْکَ: وَیْ تعجب کا کلمہ ہے۔چنانچہ کہتے ہیں وَیْ لِزَیْدٍ یعنی زید پر تعجب کرو نیز یُکْنٰی