تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 296
نے بار بار کہا ہے کہ میری نعمتوں کاشکر اداکرو۔اور میرے احسانات کو یاد رکھو۔جب انسان ہرچیز کو خدا تعالیٰ کاانعام سمجھتااوراس کی نعمتوں کی قدرکرتاہے تو اسے سارادین مل جاتاہے۔قارون کے اس جواب پراللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّمِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا کیایہ جواب دیتے ہوئے اس نے یہ نہ جاناکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کئی ایسی بستیوں کو اجاڑاہے جو اس سے زیادہ طاقتور تھیں اوراس کے جتھہ سے ان کے پاس زیادہ جتھہ تھا۔یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ اس کی دولت ذاتی نہیں تھی۔کیونکہ اگراس کی ذاتی دولت ہوتی تواللہ تعالیٰ فرماتاکہ ہم اس سے پہلے اس سے بھی بڑے بڑے مالدار لوگوںکوتباہ کرچکے ہیں۔مگراللہ تعالیٰ نے یہاں قارون کے مقابلہ میں پہلی ہلاک شدہ قوموں کی دولت اور ان کی طاقت کو پیش کیاہے۔پس یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قارون کے قبضہ میں بھی قومی دولت تھی یعنی وہ حکومت مصرکاایک بڑاافسرتھا۔اس کی ذاتی دولت و ثروت کااس جگہ ذکر نہیں کیاگیا۔وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَمیں بتایاکہ مجرم اپنے اعمال سے آپ پہچاناجاتاہے اس کے متعلق کسی جستجو اورپوچھ گُچھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جوسزاآتی ہے وہ طبعی ہوتی ہے اورطبعی سزاآپ ہی بتادیتی ہے کہ مجرم اس کامستحق تھا۔مثلاً اگر کوئی شخص آنکھوں سے کام نہ لینے کی وجہ سے نابیناہوجائے یاہاتھ پائوںسے کام نہ لینے کی وجہ سے چلنے پھرنے کی طاقت سے محروم ہوجائے یادماغ سے کام نہ لینے کی وجہ سے سوچنے اورسمجھنے کی قوت سے محروم ہوجائے یانیک تعلیموں کاانکار کرنے کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہوجائے توہرشخص سمجھ جائے گا کہ اس کی سزااس کے اعمال کے عین مطابق ہے۔اوروہ اس سزاپرکوئی اعتراض نہیں کرسکے گا۔فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ (ایک دن ایساہواکہ) وہ اپنی زینت (یعنی اپنے باڈی گارڈ) کے ساتھ نکلا۔اس پر وہ لوگ جو کہ دنیا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ کی زندگی کاسامان چاہتے تھے بول اٹھے۔اے کاش! ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیاگیا۔اس کوتو(دنیا