تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 265

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ اور وہ کہتے ہیں اگر ہم اس ہدایت کی جو تجھ پر نازل ہوتی ہے اتباع کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں گے۔لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ (تو کہہ دے) کیا ہم نے ان کو محفوظ اور امن والے مقام میں جگہ نہیں دی۔جس کی طرف ہر قسم کے پھل لائے شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۵۸ جاتے ہیں۔یہ ہماری طرف سے عطیہ ہے۔مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔حلِ لغات۔نُتَخَطَّفْ نُتَخَطَّفْ تَـخَطَّفَہٗکے معنے ہیں اِنْتَزَعَہٗ۔اس جگہ کوسے ہلا دیا وَاجْتَذَبَہُ اور اسے کھینچا۔وَاسْتَرَقَہٗ وَاسْتَلَبَہٗ وَمَرّبِہِ سَرِیْعًا۔اُسے اُچک لیا اور چھین کر جلدی سے چلا گیا۔(اقرب)پس نُتَخَطَّفْ کے معنے ہوں گے ہم اُچک لئے جائیں گے۔یُـجْبیٰ:یُـجـْبیٰ جَبیٰ یَجْبِیْ( جِبَابَۃً) جَبَا یَجْبُو (جَبْوَۃً وَجَبَاوَۃً)سے مضارع مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اورجَبَاالْـخَرَاجَ وَجَبَی الْمَالَ وَالْخَرَاجَ کے معنے ہیں جَمَعَہٗ۔مال اورخراج اکٹھاکیا۔اَلجَابِیَۃُ : الْـحَوْضُ الَّذِیْ یُجْبَی فِیْہِ الْمَآءُ لِلْاِبِلِ۔جَابِیَہ اس حوض کوکہتے ہیں جس میں اونٹوں کے لئے پانی جمع کیاجاتا ہے۔(اقرب)پس یُجْبیٰ کے معنے ہوں گے جمع کیا جاتا ہے۔تفسیر۔فرمایا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمن ان سے کہتے ہیں کہ اگر ہم بھی تیرے ساتھ مل کر اسلام کو مان لیں تولو گ ہم کو اُچک کرلے جائیں۔یعنی تیری تعلیم توامن والی ہے اگر ہم بھی امن کاراستہ اختیار کرلیں تواردگرد کی قو میں ہمیں فوراً تباہ کردیں گی۔اورہمیں غلام بناکر لے جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیتاہے کہ کیا ہم نے ان کو حرم میں جگہ نہیں دی۔جو محفوظ اورامن والا مقام ہے۔اورجس کی طرف ہرقسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔جوہماری طرف سے بطور رزق اورعطیہ کے ہیں۔لیکن افسوس ان میں سے اکثر سمجھتے نہیں اور یہ نہیں جانتے کہ جس خدا نے ابراہیم ؑ کے زمانہ سے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کی حفاظت فرمائی ہے۔جس نے ابرہہ کے لشکر کوتباہ کردیا اوربیت اللہ کو محفوظ رکھا۔اورجوایک بے آب و گیاہ جنگل میں ساری دنیا کے پھل اور غلّے لارہاہے کیااس زمانہ کی آئی ہوئی ہدایت کے ماننے پر وہ ان کی حفاظت نہیں کرے گا۔اورانہیں بے یارومددگار چھو ڑدے گا۔یعنی یہ