تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 264
ملے گااور تمہارے اعمال کابدلہ تم کو ملے گا۔ہم توتمہارے خیر خواہ ہی ہیں لیکن ہم کسی جاہل مطلق غصیلے کی صحبت پسند نہیں کرتے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے لوگوں کی یہ خوبی بیان فرمائی ہے کہ وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔مگرافسوس کہ آج مسلمان بھی جن کی کتاب قرآن ہے اوریوروپین امریکن نو مسلم بھی جن کااس آیت میں ذکر ہے سینما اور تھیٹروں کی طرف جاتے ہیں۔اورلغوسے اعراض کرنے کی بجائے لغوسے محبت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوعورت کے اختلاط کوممنوع قرار دیا ہے۔اورتھیٹر سارے کے سارے مردوعورت کے اختلاط کاہی نتیجہ ہوتے ہیں۔اگر وہ اختلاط نہ کریں اوراگر وہ مل کر ناچیں نہیں تو فلم بن ہی نہیں سکتی۔فلم اسی طرح بنتی ہے کہ مرد بھی ناچتے ہیں اور عورتیں بھی ناچتی ہیں اورفلم تیارہوجاتی ہے۔اوریہ چیز اسلامی نقطہ ء نگاہ سے ناجائز ہے۔مگرآج کامسلمان بھی اس لغو پر جان دے رہاہے اورآج کا یوروپین اور امریکن نومسلم بھی اس لغو میں ملوّث ہے۔کاش وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنے اندریہ خوبیاں پیداکرنے کی کوشش کریں۔اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ تُوجس کو پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا۔لیکن اللہ(تعالیٰ) جسے چاہے ہدایت دیتاہے۔اوروہ ہدایت يَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۰۰۵۷ پانے والوں کو خوب جانتاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توجس کو چاہے اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ہاں اللہ تعالیٰ جسے پسند کرتاہے اسے ہدایت دے دیتاہے۔اورخداہی جانتاہے کہ کون لوگ ہدایت کے مستحق ہیں۔یعنی تُوتوسب دنیا کاخیر خواہ ہے۔اورچاہتاہے کہ سب کو ہدایت میسر آجائے۔مگر تیری یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ انہی لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان پیداکرتاہے جوخود ہدایت کے جویاں ہوتے ہیں۔