تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 266
کیسی نابینائی کی علامت ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ابراہیمؑ کے زمانہ سے خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھ رہے ہیں کہ جہاں گھاس کی ایک پتی تک نہیں پائی جاتی اورجہاں معمولی روٹی بھی انہیں کھانے کے لئے میسر نہیں آسکتی تھی وہاں دنیا بھر کے عمدہ سے عمدہ میوے اوراعلیٰ سے اعلیٰ پھل خدا تعالیٰ نے جمع کردیئے ہیں۔پھر بھی وہ اس خیالی خطرہ کی وجہ سے کہ اردگرد کی قومیں انہیں نوچ کر کھاجایئں گی اسلام کو قبول کرنے سے محروم ہورہے ہیں۔اورخدا تعالیٰ کا اتنابڑانشان دیکھنے کے باوجود و ہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتاہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔اگروہ اسلام کو قبول کرلیں توجس خدا نے ابراہیمؑ کے زمانہ سے ان کی تائید فرمائی ہے اورانہیں ایک بے آب و گیاہ جنگل میں اپنی نعمتیں پہنچائی ہیں۔وہ اب بھی ان کی حفاظت کے سامان پیداکردے گااور ان کے دشمنوںکو ان پر غالب نہیں آ نے دے گا۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ اوربہت سی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جو اپنی معیشت (کے افراط) کی وجہ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا١ؕ وَ كُنَّا سے متکبر ہوگئی تھیں۔پس (دیکھ) یہ ان کی بستیاں ہیں جن میں ان کے نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ۰۰۵۹ بعد کوئی نہیں رہا۔اورہم ہی ان کے وارث بنے۔حل لغات۔بَطِرَتْ:بَطِرَتْ بَطِرَ (یَبْطَرُ بَطَرًا) کے معنے ہیں اَخَذَتْہُ دَھْشَۃٌ وَ حَیْرَۃٌ عِنْدَ ھُجُوْمِ النِّعْمَۃِ عَنِ الْقِیَامِ بِحَقِّھَا۔نعمت کی فراوانی پر اس کے حقوق کی ادائیگی میں لاابالی اوربے پرواہی برتنے لگا۔اَوْ طَغٰی بِالنِّعْمَۃِ اَوْ عِنْدَھَا۔نیز اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ نعمت کے سبب سے یانعمت کی موجودگی میں آپے سے باہر ہوگیا۔اورسرکش بن گیا۔نیز بَطِرَ الشَّیْ ئَ کے معنے ہیں کَرِھَہٗ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّسْتَحِقَّ الْکَرَاھَۃَ۔یعنی ایسی چیز کوناپسند کیا جوناپسندیدگی کے لائق نہیں تھی۔کہتے ہیں۔بَطِرَ الْحَقَّ اورمعنے یہ ہوتے ہیں کہ تَکَبَّرَ عَنْہُ فَلَمْ یَقْبَلْہُ۔حق سے تکبر کیا اوراسے قبول نہ کیا۔وَعِنْدَ بَعْضِھِمْ لَمْ یَرَہٗ حَقًّافَتَکَبَّرَ عَنْ قُبُوْلِہٖ اوربعض نے اس