تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 250
طرف ہم نے موسیٰ ؑ کو رسول بناکربھیجاتھا۔چنانچہ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کوتورات دی گئی جوایک شریعت کی کتاب تھی اسی طرح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن دیاگیا۔جوایک کامل شرعی قانون ہے۔پھر آپؐ کی زندگی کے واقعات بھی موسیٰ ؑ کے واقعات سے ملتے جلتے ہیں۔چنانچہ جس طرح موسیٰ ؑ کے بعدامتِ موسوی کی اصلاح اور تجدید دین کے لئے متواتر مجددین اورانبیاء آتے رہے اورآخرتیرہ سوسال کے بعد حضرت مسیح ناصریؑ کو آپ کاخلیفہ اورنائب بناکر بھیجاگیااسی طرح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہرصدی میں مجددین کے ظہور کی خبر دی۔پھر آپؐ نے یہ بھی بتایاکہ آخر میں مسیح موعود آئے گا جواسلام کے عروج اوراس کی نشأۃِ ثانیہ کاموجب ہو گا۔جیساکہ آپؐ نے فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلاگیاتو ایک فارسی الاصل انسان اسے واپس لے آئے گا۔(بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الجمعۃ) (۳) پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس موعو د ہیں جن کے مونہہ میں خدا تعالیٰ کاکلام ڈالا گیا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى۔اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (النجم:۴،۵)یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کے منشاء کو الفاظ کاجامہ نہیں پہناتے بلکہ صرف وہی الفاظ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جو وحی کی شکل میں آپ پر نازل کئے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کاایک نام کلام اللہ بھی رکھا گیاہے۔(بقرۃ ع۹) کیونکہ اس میں شروع سے لیکر آخر تک صرف کلام اللہ ہی ہے۔لیکن باقی انبیاء کی کتب میں خدا تعالیٰ کاکلام کم او ربندوں کاکلام زیادہ پایا جاتا ہے۔(۴) پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس موعو د ہیں جنہوں نے دنیا کی شدید مخالفت کے باوجود خدا تعالیٰ کاکلام بلاکم و کاست لوگوں کوپہنچادیا۔چنانچہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب آپؐ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ(المائدۃ :۴) آج میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو مکمل کردیاہے توآپؐ نے تمام مسلمانوں کو دوبارہ ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور آخر میں فرمایا۔اَللّٰھُمَّ۔ھَلْ بَلَّغْتُ یعنی اے اللہ کیامیں نے تیرا پیغام پوری طرح پہنچادیا ہے ؟ اورسب مسلمانوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کوگواہ رکھ کرکہتے ہیں کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کاپیغام ہم سب کو پہنچادیاہے۔(سیر ۃ ابن ہشام خطبة الرسول فی حجة الوداع) (۵) پھر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مقدس موعود ہیں جن کی الہامی کتاب کاہرباب اس آیت سے شروع ہوتاہے کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ گویاہرمسلمان جب کسی سورۃ کی تلاوت کرتاہے تواس کی آنکھوں کے سامنے موسیٰ ؑ کی پیشگوئی آجاتی ہے کہ اس آنے والے موعود پر جوکلام نازل ہوگا وہ اسے خدا کانام لے کر دنیاکے