تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 251
سامنے پیش کرے گا۔(۶) پھر کہاگیاتھاکہ جولوگ اس کی تعلیم کاانکار کریں گے وہ اس جرم کی پاداش میں خدا تعالیٰ سے سزاپائے بغیر نہیں رہیں گے چنانچہ پیشگوئی کایہ حصہ بھی بڑی شان سے پوراہوا۔اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامقابلہ کرنے والے تباہ اوربرباد کردیئے گئے۔یہاں تک کہ قیصر و کسریٰ جیسے عظیم الشان بادشاہوںکی فوجیں مسلمانوں سے ٹکرائیں اورخدا تعالیٰ نے ان کی حکومتوںکو پاش پاش کردیا۔(۷) پھر کہاگیاتھا کہ جوشخص افتراء کے طورپر اپنے آپ کو اس پیشگوئی کامصداق قراردے گا۔اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردے گا۔اوروہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔پیشگوئی کایہ حصہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا کےسامنے واضح کررہاہے۔کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ کو ہلاک کرنے کے لئے دشمنوں نے ایڑی چوٹی کازور لگایا اورہرناجائز سے ناجائز طریق اختیار کرنے میں بھی کوئی کسر نہ چھو ڑی مگرخدا تعالیٰ نے آپؐ کی مدد فرمائی اوردشمن آپؐ کابال تک بیکانہ کرسکا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمدؐ رسول اللہ! جب طورپر ہم نے موسیٰ ؑ کو تیرے آنے کی خبردی تھی توکیاتُواس وقت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھا اور کیاتُونے اسے اس پیشگوئی پر آمادہ کیاتھا ؟ یہ کام توصرف عالم الغیب خدا کاتھاجس نے دوہزار سال پہلے تیرے آنے کی خبر دے دی۔مگران لوگوںکوکیاہوگیاکہ یہ ان پیشگوئیوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اورتیراانکار کرتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اتنا لمبازمانہ پہلے یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی تھی کہ بعد میں آنے والے اس نبی کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پائیں اورتاکہ اے محمدؐرسول اللہ ! تُو ا س قوم کو بھی خواب غفلت سے بیدار کرے مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ہوشیارکرنے والانہیں آیا۔یعنی اہل مکہ کو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کفار مکہ حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں سے تھے مگر حضرت ابراہیمؑ ان سے صدیوں پہلے گذرچکے تھے۔اسی طرح حضرت اسمٰعیلؑ بھی اس وقت مبعوث ہوئے جبکہ ابھی ان کی نسل ملک عرب میں نہیں پھیلی تھی۔پس ضروری تھاکہ کوئی نیا نبی آکر ان کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلائے اور انہیں توحید حقیقی پر قائم کرے۔