تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 242
بھی تمہارے لئے جائزنہیں ہے (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ و الی ثمود اخاھم صالحا)۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھے یاد ہے کہ وہ عبدالحکیم مرتدپٹیالوی سے جب وہ احمد ی تھا بہت محبت کیاکرتے تھے اوروہ بھی آپ سے بہت تعلق رکھتاتھا۔یہاں تک کہ جب اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کی۔تواس وقت بھی اس نے یہی لکھا کہ آپ کی جماعت میں سوائے حضرت مولوی نورالدینؓ صاحب کے اَورکوئی نہیں جوصحابہؓ کا نمونہ ہو۔یہ شخص بے شک ایساہے جوجماعت کے لئے قابل فخر ہے عبدالحکیم پٹیالوی نے ایک تفسیر بھی لکھی تھی اوراس میں بہت کچھ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر لکھا تھا۔لیکن جب عبدالحکیم نے اپنے ارتداد کااعلان کیا۔تومیں نے دیکھا آپ نے گھبراکر اپنے شاگردوںکو بلایااور ان سے فرمایا۔جائو اورجلدی میرے کتب خانہ میں سے عبدالحکیم کی تفسیر نکال دو۔ایسانہ ہو کہ اس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو۔حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اوراس کی بہت سی آیات کی تفسیر اس نے خود آپ سے پوچھ کرلکھی تھی مگر اس وجہ سے کہ ا س پر خدا کاغضب نازل ہوا۔اس کی لکھی ہوئی تفسیر کو بھی آپ نے اپنے کتب خانہ سے نکلوادیا۔اسی طرح فرعون جو اپنے آپ کومصریوںکا خداقرار دیتاتھا اورکہتاتھاکہ معلو م نہیں یہ کون ساخداہے جس کوماننے کی موسیٰ ؑ ہم کو تلقین کررہاہے۔اس پر جب خدا تعالیٰ کاعذاب نازل ہواتوباوجوداس کے کہ تین ہزارسال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اب تک فرعون پر لعنت برستی چلی جاتی ہے۔اور ہرشخص جب اس کانام لیتا ہے یاقاہر ہ میں اس کی لاش دیکھتاہے جوخدائی نشان کے طور پر اب تک محفوظ چلی آرہی ہے تواس کے دل میں فرعون کے متعلق ادب اوراحترام کے جذبات پیدا نہیں ہوتے بلکہ نفرت او رحقارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔یہ واقعات خدا تعالیٰ نے اہل مکہ کے سامنے اس لئے بیان کئے تھے کہ جس طرح فرعون نے موسیٰ ؑ کامقابلہ کیااسی طرح مکہ کاابوالحکم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر لوگوں کوبھڑکار ہاہے۔مگریادرکھو جس طرح فرعون اپنے لشکروں کے ساتھ ہلاک ہوااسی طرح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بھی جوشخص اٹھے گا و ہ تباہ کردیاجائے گا اورقیامت تک آنے والی نسلیں اس پر اسی طرح لعنت ڈالیں گی جس طرح فرعون پرلعنت ڈالی جاتی ہے۔چنانچہ ابو جہل اور دوسرے سرداران مکہ جنہوں نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی بڑی تکالیف پہنچائی تھیں ان پر آج تک لعنت ڈالی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ان کی نسلیں ان کی طرف منسوب ہونا اپنے لئے ہتک کاموجب سمجھتی ہیں۔مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف دنیا کے کونہ کونہ میں ہورہی ہے اورکوئی ملک اورکوئی علاقہ ایسانہیں جہاں آپؐ پردرودوسلام بھیجنے والے اورآپؐ پر اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگ موجود نہ ہوں۔