تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 241

يَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَؒ۰۰۴۳ اورقیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہو ںگے۔حل لغات۔اَلْمَقْبُوْحِیْنَ:اَلْمَقْبُوْحِیْنَ قَبَحَ سے اسم مفعول ہے۔اورقَبَحَہُ اللّٰہُ عَنِ الْخَیْرِ قَبْحًا کے معنے ہیں نَحَّاہُ عَنْہُ۔نیکی سے اسے دور رکھا (اقرب)پس مَقْبُوْحٌ کے معنے ہوئے۔نیکی سے دور رکھا ہوا۔بدحال۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے توان کواپنی قوم کا لیڈر اورراہنمابنایاتھا۔مگرانہوں نے لوگوں کو ہلاکت اور بربادی کی راہوں پر چلاناشروع کردیا جس کانتیجہ یہ ہواکہ دنیا میں بھی وہ خدا کی مدد سے محروم رہے اورقیامت کے دن بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اور چونکہ وہ دنیا میں لوگوں کو ایسے راستوں پر چلاتے رہے جوہلاکت اوربربادی تک پہنچانے والے تھے اس لئے ہم نے اس دنیا میں بھی ان پر لعنت بھیجی اورقیامت کےد ن بھی وہ بدحال لوگوں میں شامل ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لو۔تین ہزار سال سے زیادہ عرصہ گذر گیا مگرموسیٰ ؑ پراب تک صلوٰۃ اورسلام بھیجاجارہاہے اورقیامت تک اس پر خدا کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی چلی جائیں گی۔لیکن فرعون پر دنیا کی ہرقوم لعنت بھیجتی رہی ہے اورقیامت تک اس پر لعنت ہی برستی چلی جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر لعنت ڈالتاہے تووہ لعنت اس وقت ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ چلتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک غزوہ پر جارہے تھے کہ حِجر شہر آپ کے راستہ میں آیا۔اوراس جگہ پر تھوڑی دیر کے لئے آپ نے پڑائو کیا۔پڑائو کی صورت دیکھ کر صحابہؓ نے اپنے اپنے آٹے نکالے اور گوندھ کر روٹی پکانے کی تیاری کرنے لگے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آٹاگوندھتے اور روٹی پکانے کی فکرکرتے دیکھاتو آپؐ گھبراگئے اورآپ نے اپنے صحابہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا۔جلدی اپنی سواریوں پرچڑھ جائو۔اوراپنے آٹے پھینک دو۔کیونکہ اس جگہ خدا کاغضب نازل ہواتھا۔و ہ لوگ جن پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہواتھا مرگئے۔جس شہر پر غضب نازل ہواتھا اجڑ گیا۔سالوں کےبعد سال اورصدیوں کے بعد صدیاں گذرتی چلی گئیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اب بھی اس مقام پر عذاب نازل ہوتا نظرآرہاتھا۔آپؐ نے نہ صرف صحابہؓ کو وہاںسے جلدی نکل جانے کا ارشاد کیا بلکہ ساتھ ہی مسلمانوں کی دولت کاایک حصہ یعنی وہ آٹاجوانہوں نے روٹی پکانے کے لئے گوندھاتھا اسے بھی آپ ؐنے پھینکنے کا حکم دے دیا او رفرمایا کہ اس جگہ کے پانی سے گوندھا ہوا آٹا کھانا