تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 223

نے ظلم سے کام لیا۔پس جبکہ قرآن کریم بوضاحت بتارہاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت شعیبؑ کی قوم کی تباہی کے بعد ہوئی تھی توحضرت شعیب علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کاخسر قراردینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم بتاتاہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قو م کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْۤ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ۔(ہود :۹۰) یعنی اے میری قوم دیکھنا کہ کہیں میری دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم اپنے لئے ویسی ہی مصیبت سہیڑ لو جیسی نوح ؑ یاہود ؑ یاصالح ؑ کی قوم پر آئی تھی۔اورلوط ؑ کی قوم توتم سے کچھ ایسی دور بھی نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام حضرت لوط ؑ کے قریب عرصہ بعد میں ہوئے ہیں۔پس حضرت شعیب کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قرا ردینا اورانہیں آپ کا خسر بتانا ان آیات کی روسے درست نہیں ہوسکتا۔پس میرے نزدیک یہ صحیح نہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام ان کے خسر تھے۔آپ کے خسر کایترونام ہو یارعوایل یاکچھ اَوربہرحال و ہ اَور شخص ہیں اور حضرت شعیب علیہ السلام اَورشخص ہیں۔یہ قوم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت تک تباہ ہوچکی تھی۔اورآپ کے زمانہ میں صرف اس کی نسل کاکچھ بقیہ موجود تھا۔اس کی اصل شان و شوکت بالکل زائل ہوچکی تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ نبوت سے پہلی زندگی کے یہ حالات جوقرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم نے اس سورۃ کے ابتداء میں یہ امرواضح فرما دیاتھا کہ ہم یہ واقعات بائیبل کی نقل کے طور پر بیان نہیں کررہے بلکہ موسیٰ ؑ کی زندگی کے صحیح واقعات بیان کررہے ہیں اورپھر یہ واقعات صرف ایک قصہ کے طور پر نہیں بلکہ ان واقعات میں مومن قوم کے لئے بڑے بھاری نشانات ہیں یعنی انہیں یقین رکھناچاہیے کہ جس طرح موسیٰ ؑ کی خدا تعالیٰ نے تائید فرمائی اور ان کے ذریعہ اس نے ایک بے کس اور مظلوم قوم کو بادشاہ بنادیا۔اسی طرح وہ لو گ جو محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے بیشک انہیں اسرائیلیوں کی طرح ماراپیٹاجائے گا۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں انہیں اپنی جانوں اور اموال کے علاوہ اپنی آئند ہ نسلوں کی بھی قربانی کرنی پڑے گی۔مگرجس طرح خدا تعالیٰ نے فرعون کاتختہ الٹ کر رکھ دیاتھا اوربنی اسرائیل کو اسی قسم کی نعماء کاوارث کردیاتھا جوفرعون او راس کے ساتھیوں کو میسر تھیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اس زمانہ کے طاقتو ربادشاہوں کو بھی جوفرعون کی طرح خدائی احکام کے سامنے اپناسر جھکانے کے لئے تیار نہیں ہوں گے سزادے گا اوران کی حکومتوںکو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔چنانچہ اسلامی تاریخ کا ایک ایک ورق اس پیشگوئی کی تصدیق کررہاہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت واضح کررہاہے۔