تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 224
ان واقعات قرآنی کا بائیبل کے جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے وہ یہ ہیں :۔اول:۔بائیبل نے اس امر کاکوئی ذکر نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والد ہ کواللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ حکم دیاتھا کہ جب موسیٰ ؑ کی جان کے متعلق تمہیں خطرہ لاحق ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا۔بلکہ وہ اس تدبیر کو خود امِّ موسیٰ ؑ کی طرف منسوب کرتی ہے۔لیکن قرآن کریم اس امر کوواضح فرماتا ہے کہ امِّ موسیٰ ؑ کویہ خیال خود بخود نہیں آیا۔بلکہ ہمارے حکم سے اس نے ایسا کیا۔اگرامِّ موسیٰ ؑ کایہ ذاتی فعل ہوتا اورخدائی تائید اس کے پیچھے کام کر رہی نہ ہوتی توموسیٰ ؑ کی سلامتی اوراس کی شاہی گھرانے میں پرورش کے جوواقعات بعد میں ظاہر ہوئے وہ کبھی نہ ہوتے۔یہ واقعات خود اپنی ذات میں اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ جو کچھ ہواالٰہی منشاء کے ماتحت ہوا۔دوم:۔بائیبل یہ بیان کرتی ہے کہ موسیٰ ؑ کی والدہ نے ’’سرکنڈوں کاایک ٹوکرہ لیا۔او راس پر چکنی مٹی اوررال لگاکر لڑکے کو اس میں رکھااوراسے دریاکے کنارے جھائو میں چھوڑ آئی ‘‘۔(خروج باب ۲آیت ۳) گویا بائیبل کے نزدیک انہیں یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے ہاتھ سے انہیں دریا میں ڈال دیں۔زیادہ سے زیاد ہ انہوں نے یہ کیا کہ دریاکے کنارے ایک جھائو میں جاکرانہیں چھپادیا۔اورپھر بائیبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ فرعون کی بیٹی جب دریا پر غسل کرنے گئی اوراس نے جھائومیں ایک ٹوکراپڑادیکھا تواس نے اپنی سہیلی کو بھیجا کہ وہ جاکر ٹوکرااٹھالائے۔چنانچہ لکھا ہے۔’’ فرعون کی بیٹی دریاپر غسل کرنے آئی اور اس کی سہیلیاں د ریا کے کنارے کنارے ٹہلنے لگیں۔تب اس نے جھائو میں و ہ ٹوکرادیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اسے اٹھالائے۔جب اس نے اسے کھولاتو لڑکے کو دیکھا اوروہ بچہ رورہاتھا۔اسے اس پر رحم آیا او رکہنے لگی کسی عبرانی کابچہ ہے۔تب اس کی بہن نے فرعون کی بیٹی سے کہا۔کیا میں جاکر عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تیرے پاس بلالائو ں جوتیرے لئے اس بچہ کو دودھ پلایاکرے۔فرعون کی بیٹی نے کہا۔جا۔وہ لڑکی جاکر بچے کی ماں کو بلالائی۔فرعون کی بیٹی نے اسے کہا۔تواس بچے کو لے جاکر میرے لئے دودھ پلا۔میں تجھے اجرت دیاکروں گی وہ عورت اس بچے کو لے جاکر دودھ پلانے لگی۔جب بچہ کچھ بڑاہواتووہ اسے فرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی۔اوروہ اس کابیٹاٹھہرا۔اوراس نے اس کانام موسیٰ یہ کہہ کر رکھا کہ میں نے اسے پانی سے نکالا۔‘‘ (خروج باب ۲آیت ۵تا۱۰)