تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 222

میں یہ کہتا ہوں کہ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اپنے اس عہد کاگواہ قرار دیتے ہیں۔انہیں آیات سے استدلال کرتے ہوئے اگر کوئی مخلص مہر کے متعلق مجھ سے مشورہ لے تومیں اسے یہ مشور ہ دیاکرتاہوں کہ اپنی چھ ماہ کی آمد سے ایک سال تک کی آمد بطور مہر مقررکردو۔اورمیرایہ مشورہ دووجوہ پر مبنی ہوتاہے۔اول تواس امر پر کہ اللہ تعالیٰ نے حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ’’الوصیت‘‘ کے قوانین میں دسویں حصہ کی شرط رکھوائی ہے گویااسے بڑی قربانی قرا ر دیاہے۔اس بنا پر میراخیال ہے کہ اپنی آمدنی کادسواں حصہ باقی اخراجات کو پوراکرتے ہوئے مخصوص کردینا معمولی قربانی نہیں بلکہ ایسی بڑی قربانی ہے کہ جس کے بدلہ میں ایسے شخص کو جنت کاوعدہ دیاگیاہے۔اس حساب سے ایک سال کی آمد جو گویامتواتر دس سال تک کی آمد کادسواں حصہ ہوتاہے بیوی کے مہر میں مقرر کردینا مہرکی اغراض کو پوراکرنے کے لئے بہت کافی ہے۔بلکہ میرے نزدیک انتہائی حد ہے۔لیکن ’’ الوصیت ‘‘کے ارشادکے علاوہ قرآن مجید کی ان آیات سے بھی اس کی تائید ملتی ہے۔ان آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آٹھ سال بطور مہر کام کرنے کا ذکر آتاہے اورانہیں بڑھا کر دس سال بھی کام کرنے کی اجازت ہے۔گویااس واقعہ میں بھی آٹھویں حصہ بلکہ دسویں حصہ کی آمد کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی قربانی سے تعبیر کیاہے کیونکہ اس سے یہ مراد تو نہیں کہ اس آٹھ یادس سال کے عرصہ تک حضرت موسیٰ علیہ السلام خود کچھ کھاتے پیتے اورپہنتے نہیں تھے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر ان کے او ران کی بیوی کے اخراجات اداکرتے ہوں گے۔ان اخراجات کواداکرنے کے بعد یہی کہاجاسکتاہے کہ جس تنخواہ کے حضرت موسیٰ علیہ السلام حقدا ر تھے اس کادسواں حصہ بطور امانت ان کے خسر کے پاس رہتاتھااوراسے انہوں نے لڑکی کامہر قرار دیاتھا۔بائیبل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر کانام کہیں تویتروبتایاہے(خروج باب ۳ آیت ۱) جیساکہ خروج باب ۳سے ظاہر ہے اور کہیں رعوایل بتایاہے جیساکہ خروج باب ۲ آیت ۱۸ سے ظاہر ہے۔لیکن قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسرکاکہیں نام نہیں بتایا۔البتہ مسلمان مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یہ خسر حضرت شعیب علیہ السلام تھے جو مدین قوم کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے(ابن کثیر)۔مگرمیرے نزدیک یہ درست نہیں اس لئے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت قومِ شعیبؑ کی تباہی کے بعد ہوئی تھی جیسا کہ سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ قومِ شعیبؑ کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے۔ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا (الاعراف :۱۰۴) یعنی اس قوم کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف کھلی کھلی آیات کے ساتھ مبعوث کیامگرانہوں