تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 221

قَالَ ذٰلِكَ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكَ١ؕ اَيَّمَا الْاَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا نیک معاملہ کرنے والوں میں سے پائے گا۔(اس پر موسیٰ ؑ نے) کہا۔یہ بات میرے اورتیرے درمیان پختہ ہوگئی۔عُدْوَانَ عَلَيَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌؒ۰۰۲۹ ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں مجھ پر کوئی الزام نہیں ہوگا اورجوکچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر گواہ ہے۔حل لغات۔حِـجَجٌ: حِـجَجٌ حِـجَّۃٌ کی جمع ہے اور اَلْـحِجَّۃُ کے معنے ہیں اَلسَّنَۃُ۔سال (اقرب) پس حِـجَجٌ کے معنے ہوں گے کئی سال۔تفسیر۔ان دونوں بہنوں میں سے ایک نے یہ خیال کرکے کہ ہمیں ہر روز چشمہ پرجانے کی وجہ سے یہاں کے اوباش آدمیوں سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔وہ قسم قسم کی بے حیائی کی باتیں کرتے ہیں اورمذاق اورچھڑ خانی کرتے ہیں۔اگرہماراباپ ا س آدمی کو نوکر رکھ لے توہم اس مصیبت سے نجات پا جائیں گی۔اپنے باپ سے کہا کہ اے باپ! اس کونوکر رکھ لیں۔کیونکہ سب سے زیادہ نوکر رکھنے کے قابل وہی شخص ہوتاہے جوکہ مضبوط بھی ہو اور امانت دار بھی۔معلوم ہوتاہے جس دلیری سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اوباش چرواہوں کو دھکے دے کر چشمہ کے پاس جانوروں کو لے گئے تھے اس سے ان لڑکیوں نے نتیجہ نکالاکہ موسیٰ مضبوط آدمی ہے اورجس طرح اس کے بعدآنکھیں جھکائے درخت کے نیچے جابیٹھے تھے اوران لڑکیوں کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھاتھا اس سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ شخص امانت دار ہے۔باپ لڑکیوں سے واقعہ سن کر پہلے ہی یہ نتیجہ نکال چکا تھا۔اور چونکہ وہ بھی سکّوں کے لحاظ سے مالدار نہیں تھا گوکچھ جانور اس کے پاس تھے۔اس لئے اس نے فوراً تجویز پیش کردی کہ میں چاہتاہوں کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کاتجھ سے نکاح کردو ں اس شرط پر کہ توآٹھ سال میری خدمت کرے پھر اگرآٹھ کوبڑھا کر دس کاعد د پوراکردے تویہ تیرااحسان ہوگا۔اورمیں تجھ پر سختی کرنانہیں چاہتا۔یعنی میں آٹھ پر ہی قائم رہوں گا اوراس پر زور نہیں دوں گا کہ تُو دس سال ضرور پورے کرے۔تو انشاء اللہ معاملہ پڑنے پر دیکھے گاکہ میں ہمیشہ نیک سلوک کیاکرتاہوں۔کبھی سختی نہیں کیاکرتا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ چلیئے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔میں ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی پوری کروں وہ جائز ہوگی اورمجھ سے یہ امید نہ رکھی جائے گی کہ میں ضرور دس سال والی مدت پوری کرو ں۔اور چونکہ ایسے امو رکے لئے گواہ کی ضرور ت ہوتی ہے۔