تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 220

بوڑھا ہے۔وہ یہ کام نہیں کر سکتا۔اس پر موسیٰ ؑ کو ان لڑکیوں پر رحم آیا۔اورانہوں نے لڑکیوں کے جانور لے کر اس چشمہ سے ان کو پانی پلوادیا۔پھر بغیر کسی مزدوری یا کسی شکریہ کی امید ظاہر کرنے کےایک درخت کی طرف چلے گئے اوراس کے سایہ میں بیٹھ گئے اورخدا تعالیٰ سے دعاکی کہ رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ۔یعنی اے میرے رب! میں تواس ملک میں مسافراور اکیلاہوں۔اور میرے پاس کچھ نہیں تُوجوکچھ بھی بھلائی کاسامان میرے لئے کرے میں اس کا محتاج ہوں۔چنانچہ وہ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے رہے۔اس کے بعد ان دونوں بہنوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میراباپ تجھے بلاتاہے تاکہ تیرے پانی پلانے کی اُجرت تجھے دے۔فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔جب موسیٰ علیہ السلام اس کے باپ کے پاس آئے۔توباتوں باتوں میں انہوں نے اپناساراواقعہ سناڈالا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان کاواقعہ سن کر ان لڑکیوں کے باپ نے کہا۔کہ اب تُوکسی بات سے مت ڈر توظالم قوم سے نجات پاچکا ہے۔قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١ٞ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اس پر ان دونوں (لڑکیوں )میں سے ایک نے کہا۔اے میرے باپ!اس کوتو ملازم رکھ لے کیونکہ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ۰۰۲۷قَالَ اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ جن کو توملازم رکھے ان میں سے بہتر شخص وہی ہوگا جو مضبوط بھی ہو اور امانت دار بھی۔تب و ہ شخص بولا اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَيَّ هٰتَيْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰنِيَ (اے موسیٰ)میں چاہتاہوں کہ اس شرط پر اپنی ان دوبیٹیوں میں سے ایک کاتجھ سے نکاح کردوں۔حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِيْدُ اَنْ کہ توآٹھ سال تک میری خدمت کرے۔پس اگر تو آٹھ کے عدد کی جگہ پر دس کے عددسے اَشُقَّ عَلَيْكَ١ؕ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۲۸ اپنے وعدہ کو مکمل کردے تویہ تیرااحسان ہوگا۔اورمیں تجھ پر کوئی بوجھ ڈالنا نہیںچاہتا۔اگر اللہ نے چاہاتوتُو مجھے