تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 18

نے اس عورت کو دیکھا۔جس طرح یہ اپنے بچہ کے لئے بیتاب رہی اورجب اسے اپنا بچہ مل گیا توسکون اوراطمینان کے ساتھ بیٹھ گئی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بھولے بھٹکے بندہ کے لئے ہروقت بے تاب رہتاہے۔لیکن جب ا س کابند ہ صحیح رنگ میں توبہ کرکے اسے مل جاتاہے تووہ ایسا ہی سکون محسوس کرتاہے جس طرح ا س ماں نے محسوس کیا ہے (بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبیلہ)۔پس قرآن کریم دعویٰ کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرانسان کے اندر تعلق اورمحبت پیداکرنے کامادہ رکھ دیاہے اورپھر وہ اس کے حصول کے ذرائع پربھی روشنی ڈالتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جو سچے مذہب کودوسرے مذاہب یاعقائد پرفوقیت بخشتی ہے وہ تعلق باللہ ہی ہے۔ایک انسان سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر محنتی ہو سکتا ہے۔وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا تاجر بن سکتاہے وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا صنّاع بن سکتاہے اوروہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر صدقہ و خیرات بھی کرسکتاہے۔مگردنیا کاکوئی انسان سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر خدارسیدہ نہیں ہوسکتا۔یہی وہ چیز ہے جو سچے مذہب پر چلنے والے اورنہ چلنے والے میں مابہ الامتیاز ہے اورجس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص سچے مذہب پر چلتاہے یا نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ خدارسید ہ وہی ہو سکتا ہے جو اس راستے پر چلتاہے جو خداتک پہنچتاہے۔جو شخص خداتک جانےوالے راستہ پر نہیں چلتا وہ خداتک کس طرح پہنچ سکے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا کوئی مادی چیز نہیں اورنہ ہی اس کا کوئی خاص مکان ہے مگرساری روحانی اورمعنوی چیزوں کے لئے رستے ہوتے ہیں۔مثال کے طورپرپڑھنا یا علم حاصل کرنامادی چیز نہیں۔زبان جاننا مادی چیز نہیں۔اسی طرح جغرافیہ تاریخ اورحساب کاعلم حاصل کرنا مادی نہیں مگران سب کے حصول کے لئے کچھ راستے مقررہوتے ہیں جب تک زبان دانی کے لئے زبان نہ سیکھی جائے۔جب تک علم حساب کے لئے حساب کی کتابیں نہ پڑھی جائیں جب تک جغرافیہ کے علم کے لئے جغرافیہ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں اورجب تک تاریخ دانی کے لئے تاریخ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں تب تک انسان زبان تک ، حساب تک ،جغرافیہ تک اورتاریخ تک نہیں پہنچ سکتا۔اسی طرح گوخدا کوئی مادی چیز نہیں مگراس تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ مقررہے۔چنانچہ اسلام اس بارہ میں اعلان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:۳۲)یعنی اے محمد ؐ رسول اللہ!توتمام بنی نوع انسان کو یہ بشارت دےدے کہ اگرتم اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرناچاہتے ہو تومیری اتباع کرو۔اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ تمہاراخداتم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔اور تم اس کے محبوب اورپیار ے بن جائو گے۔یہ کتنی بڑی بشارت ہے جودنیا کو دی گئی ہے اورکتنا امید افزا پیغام ہے جومردہ قلوب میں بھی حیاتِ نو پیداکردیتاہے۔آج ساری دنیامیں کوئی شخص ایسانہیں جو یہ دعویٰ کرسکے کہ