تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 19

اس نے تورات یا انجیل یاوید یاژند اوراوستاپرعمل کرکے خدا تعالیٰ کاقرب حاصل کرلیا ہے اورخدااس سے ہمکلام ہوتا اوراس پر اپنے غیب کے اسرار ظاہرکرتاہے۔لیکن مسلمانوں میں ہر زمانہ میں ایسے پاکباز لوگ گذرے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور اس کے انوار اوربرکات سے حصہ لیا۔بلکہ و ہ دائمی طور پر مسلمانوں سے یہ وعدہ کرتاہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ( حٰم السجدۃ :۳۱۔۳۲)یعنی وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارارب ہے اورپھر وہ استقلال کے ساتھ اس عقیدہ پر قائم ہوگئے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام اورا س کے الہام سے نوازے جائیں گے اورخدا تعالیٰ کے فرشتے ان پر یہ کہتے ہوئے اتریں گے کہ ڈرونہیں اورنہ کسی پچھلی کوتاہی کے بدنتائج کا خوف کرو۔بلکہ اس جنت کے ملنے سے خوش ہوجائو جس کا تم سے وعدہ کیاگیاتھا۔ہم اس دنیا میں بھی تمہارے دوست ہیں اورآخرت میں بھی تمہارے دوست رہیں گے۔اوراس جنت میں جو کچھ تمہاراجی چاہے گا وہ تم کو ملے گا اورجو کچھ مانگو گے وہ بھی تم کو دیاجائے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام ہر مومن کے لئے قرب الٰہی کے دروازہ کو کھلا تسلیم کرتاہے اوروہ بنی نوع انسان کو یقین دلاتاہے کہ اگر وہ سچے دل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کریںگے تو خدا تعالیٰ انہیں یقیناًاپنا محبوب بنالے گا۔اورانہیں اپنے کلام اور الہام سے نوازے گااور مشکلات میں ان کی مدد کرے گا اورانہیں غیر معمولی کامیابیوں اوربرکتوں سے حصہ بخشے گا مگر دنیا کی اَورکوئی الہامی کتاب ایسی نہیں جو اپنے متبعین کو ان برکات کا کروڑواں حصہ بھی دے سکتی ہو۔پس صحیح معنوں میں صرف قرآن کریم ہی کتاب کہلانے کامستحق ہے۔جبکہ دوسری الہامی کتب نام کے لحاظ سے توکتاب کہلاتی ہیں۔مگر حقیقت کے لحاظ سے وہ کتاب نہیں کیونکہ وہ خدااور بندوں کا باہمی تعلق پیداکرنے سے قاصر ہیں۔پھرقرآن کریم صرف کتاب ہی نہیں بلکہ وہ کتاب مبین بھی ہے۔یعنی وہ نہ صرف انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیداکردیتاہے بلکہ تقرب الی اللہ کے لئے جس قدر امو ر کی ضرورت ہے ان سب کو اس نے پوری تفصیل سے بیان کردیاہے گویا احکام یا اخلاق فاضلہ یا اعتقادات صحیحہ سے تعلق رکھنے والی کوئی بات ایسی نہیں جو قرآن کریم نے بیان نہ کی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جو چیز درون پردہ ہو۔جب تک وہ آپ ہمیں آواز نہ دے اورآپ ہماری راہنمائی نہ کرے ہمیں باہر سے اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوسکتا۔فرض کرو۔ایک مکان کادروازہ اند رسے بند ہے اورہمیں