تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 17
تعلق پیداکردیتی ہے وہ توفی الواقعہ کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔لیکن جو کتاب انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتی وہ حقیقی معنوں میں کتاب نہیں کہلا سکتی۔اوریہ خصوصیت صرف قرآن کریم کو ہی حاصل ہے کہ وہ خدااور بندے کے درمیان اتصال پیداکردیتاہے اوراس پر عمل کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کامقرب ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے اس خصوصیت پر اتنا زوردیاہے کہ وہ فرماتا ہے ہم نے انسان کی فطرت میں ہی تعلق باللہ کا مادہ رکھ دیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ(العلق:۳)۔اس نے انسان کے اندر تعلق باللہ کامادہ رکھاہے۔بیشک اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اس نے انسان کو ایسی حالت سے پیدا کیاہے جبکہ وہ رحم سے چمٹاہواتھا۔لیکن اس آیت کے ایک تحت السطح معنے بھی ہیں اوروہ یہ ہیں کہ عربی محاورہ میں خُلِقَ مِنْ شَیْءٍ کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز رکھی گئی ہے مثلاً وَبَدَاَ خَلْقَ الاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ (السجدۃ:۸)کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔لیکن جب خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ آجائے تواس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ہم نے انسان کو جلدی سے پیدا کیاہے۔کیونکہ جلدی کو ئی مادہ نہیں کہ اسے گھولاا ور انسان پیداکردیا۔بلکہ ا س کے یہ معنے ہوں گے کہ انسان کی فطرت میںعجلت رکھی گئی ہے۔پس جہاں علق کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو اس حالت سے پیدا کیا ہے کہ وہ رحم سے چمٹاہواتھا وہاں اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسان کی فطرت میں محبت اورعلاقہ کا مادہ رکھا ہے اوراس کی فطرت میں یہ بات مرکوز کردی گئی ہے کہ وہ کسی کا ہورہے۔حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پنجابی کاایک مصرع سنایاکرتے تھے۔جس کامفہوم یہ تھا کہ یاتوتُوکسی کاہو جایا کوئی تیراہوجائے۔پس خَلَقَ الْاِنْسَانََ مِنْ عَلَقٍ کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسانی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔یعنی ہم نے اسے ایسی حالت پر پیدا کیا ہے کہ و ہ سوائے اس کے چین پاہی نہیں سکتاکہ وہ کسی کاہورہے۔بیشک جب تک اسے اصل چیز نہیں ملتی اس وقت تک وہ کبھی بیوی کا ہورہتاہے کبھی بہن بھائی کا ہورہتاہے۔کبھی ماں باپ کا ہو رہتا ہے۔کبھی دوستوں کا ہورہتاہے اوراس طرح وہ درمیان میں بھولتاپھرتاہے۔مگرجب خدا تعالیٰ کے ملنے کاراستہ اس پر کھل جاتاہے توپھر وہ خدا تعالیٰ کا ہی ہو جاتا ہے۔حدیثوں میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بد ر کے موقعہ پر دیکھا کہ ایک عورت کا بچہ گم ہوگیاہے اوروہ میدان جنگ میں اپنے بچے کو تلاش کرنے کے لئے ماری ماری پھررہی ہے۔اسے جہاںکو ئی بچہ ملتا وہ اسے پیار کرتی اورگلے لگاتی۔لیکن جب وہ دیکھتی کہ و ہ اس کا اپنا بچہ نہیں تواسے چھوڑ دیتی اورآگے چلی جاتی یہاں تک کہ اسے اپنا بچہ مل گیا۔اس نے اسے پیار کیااورگلے لگایا۔اورایک جگہ آرام سے بیٹھ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔آپؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا۔تم