تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 16
’’ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جوتیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرابھی اس کی طرف پھیر دے۔‘‘ (متی باب ۵آیت ۳۹) مگرآج اس تعلیم پر کہیں بھی عمل نہیں ہورہا۔اگرعمل ہورہاہے توصرف قرآنی تعلیم پر جس نے کہا ہے کہ تم مجرم کوپکڑواور اسے سزادو۔لیکن اگر تمہیں دکھائی دے کہ سزاسے وہ اَوربھی بگڑ جائے گا اوراگراسے معاف کردیاجائے تواس کے دل میں ندامت پیداہوگی اوروہ اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے گا توتمہارافرض ہے کہ تم اسے معاف کردو۔کیونکہ تمہاراکام دوسروں کی اصلاح کرناہے۔ناواجب سزایاناواجب عفوسے کام لینا تمہارے لئے جائز نہیں۔غرض عمل کے لحاظ سے بھی صرف قرآن کریم ہی کتاب کہلانے کی مستحق ہے جبکہ باقی کتابیں عمل کے میدان میں بالکل بیکار ثابت ہوچکی ہیں۔پھر قرآن کریم اس لحاظ سے بھی کتاب ہے کہ اس پر عمل کرکے انسان اللہ تعالیٰ کا مقرب بن سکتاہے۔کتاب کے معنوں پر بحث کرتے ہوئے ماہرین لغت نے لکھا ہے کہ اَلْکِتَابُ مَا یُکْتَبُ فِیْہِ ، سُمِّیَ بِہٖ لِجَمْعِہٖ اَبْوَابَہٗ وَ فُصُوْلَہٗ وَمَسَائِلَہٗ یعنی کتاب اس چیز کوکہاجاتاہے جس میں کچھ لکھا گیاہو اوراسے کتاب اس لئے کہاجاتاہے کہ اس میں مختلف فصلوں اورابواب او رمسائل کو جمع کردیاجاتاہے۔اسی طرح کتاب کے معنے خط کے بھی ہیں اورکتاب کے معنے فرض کے بھی ہیں۔حکم کے بھی ہیں اورقضاو قدر کے بھی ہیں۔اسی طرح کَتَبَ السِّقَاء کے معنے ہوتے ہیں خَرَزَہُ بِسَیْرَیْنِ مشکیزہ کو چمڑے کے تسمہ کے ساتھ سی دیا اورکَتَبَ النَّاقَۃَ کے معنے ہوتے ہیں اونٹنی کو دوسرے بچے کے ساتھ عادی بنانے کی کوشش کی۔اوراس کے نتھنوںکو سی دیا تاکہ وہ بُو یعنی بھُس بھری کھال کی بُو نہ سونگھے۔(اقرب) ان معانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کتاب ا صل میں جمع کرنے کے معنے رکھتی ہے۔کتاب کو بھی کتاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں مختلف مضامین جمع ہوتے ہیں۔اورخط کو بھی اس لئے کتاب کہتے ہیں کہ وہ دودوستوں کو جمع کردیتاہے۔اورفرض اورحکم کو بھی اسی لئے کتاب کہتے ہیں کہ فرض اورحکم کوپوراکرکے انسان اپنے مطلوب سے مل جاتاہے۔اورقضاوقدر کو بھی اسی لئے کتاب کہتے ہیں کہ انسان اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا اوروہ اسے پاکررہتاہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی وحی کوبھی اسی لئے کتاب کہتے ہیںکہ وہ اللہ تعالیٰ اوربندے کو جمع کرنے والی اوران کے درمیان ایک واسطہ ہوتی ہے اوران کے درمیان ایک تقریب پیداکردیتی ہے۔پس جو کتاب بندہ اورخدا تعالیٰ کا