تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 202
کے دوسرے حصوں پر اثر پڑناایک لازمی امر تھا۔اس لئے رفتہ رفتہ آمان نے سب دیوتائوں پربرتری حاصل کرلی اوریہ نام ایسامقدس سمجھاجانے لگاکہ جس طرح مسلمان اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنے اوراپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں اسی طرح مصری ناموں اور القابات میں بھی آمن یاآمون کالفظ بکثرت استعمال ہونے لگ گیا (تاریخ مصر مصنّفہ جیمز ہنری بریسٹڈ ص ۶۰۴)۔چونکہ ہردیوتاکا الگ الگ معبد تھا اورہردیوتا کے الگ الگ کاہن مقررتھے۔اس لئے جب آمان دیوتاکی مقبولیت بڑھی توآمان کاکاہن بھی تمام کاہنوں کارئیس تسلیم کیاجانے لگا۔اوررفتہ رفتہ اس نے اتنا اقتدار حاصل کرلیا کہ بے شمار املاک اور جائیدادیں جوآمان دیوتاکے لئے وقف تھیں وہ اس کے قبضہ میں آگئیں۔اوروہ معبدِ آمان کی متعلقہ عمارات کی تولیّت پر بھی قابض ہوگیا(تاریخ ملل قدیمہ مصنفہ سنیویس مترجم اردوسید محمود اعظم فہمی ص ۳۹)۔جیمز ہنری بریسٹڈ اپنی کتاب ’’ تاریخ مصر ‘‘میں ان امو رکا ذکر کرتے ہوئے لکھتاہے۔’’مصر کے نئے دور حکومت میں فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ ایک نئی مؤثر اور طاقتور تحریک جو قدیم نظام کہانت پر مبنی تھی ظہور پذیر ہوئی۔درحقیقت سلطنت ِ مصر میں معابد کی بے پناہ دولت کا یہ قدرتی نتیجہ تھا کہ کہانت ایک مخصوص پیشہ کی صورت اختیار کرگئی اورجوںجوں کاہنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاگیا۔ویسے ویسے وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی رسوخ اور طاقت حاصل کرتے چلے گئے معابد کی دولت و ثروت میں اضافہ کے ساتھ ہی ایک انبوہ کثیر افسرانِ معابدکا بھی پیداہوگیاجن کے ذمہ ان معابد کاانتظام تھا حالانکہ قدیم ایام میں ان کاکوئی وجود نہ تھا۔آخر ملک کے تمام الگ الگ دیوتائوں کے کلیسیائی نظام ایک عظیم الشان مقدس تنظیم کے ماتحت متحد ہوگئے۔اس تنظیم کارئیس اعلیٰ دارالسلطنت تھیبس کے معبد آمان کابڑاکاہن تھا۔اس طرح آمان کے کاہن اعظم کی طاقت پہلے کی نسبت کئی گناہ بڑ ھ گئی۔فراعنہ مصر نے جب مفتوحہ ممالک سے دولت حاصل کی تواس کابیشتر حصہ معبدوں کی نذر کردیاگیااورمعبد وسیع اورعالیشان محلّات کی صورت اختیار کرگئے۔جن میں کاہنوں کے گروہ در گروہ رہتے تھے۔آمان کاکاہن اعظم اس مقدس مذہبی تنظیم کارئیس اعلیٰ تھا وہ ایک مقدس شہزادہ سمجھاجاتاتھا۔اوراس کی بیوی ’’خداوند کی کنیز اعلیٰ‘‘کے لقب سے یاد کی جاتی تھی اوراسے ملکہ کادرجہ حاصل تھا۔‘‘ (تاریخ مصر مصنفہ جیمز ہنری بریسٹڈ پی۔ایچ۔ڈی۔ص ۲۴۷و۲۴۸) آمان دیوتاکایہ کاہن جس کااوپر ذکر کیاگیاہے اس کے یوں تواور بھی بہت سے خطابات تھے۔لیکن عرف