تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 203
عام میں اسے ’’ھَمْ آمان‘‘ کہاجاتا۔جیساکہ مصر قدیم میں رَعْ دیوتاکے بڑے کاہن کو ھَمْ رَعْ اور ’’کا‘‘ دیوتا کے بڑح کاہن کو’’ ھَمْ کا‘‘کہتے تھے۔(" THE DWELLERS ON THE NILE" BY SIR E۔A۔WALLIS BUDGE, KT۔P۔148,163,173) ھَمْ کے معنے خادم یاغلام کے ہوتے ہیں۔پس’’ ھَمْ آمان ‘‘کے معنے تھے۔’’آمان دیوتاکاخادم یاغلام ‘‘ لیکن اصطلاحاً ’’ہم‘‘بڑے کاہن کو کہتے تھے۔یہ امر بھی یاد رکھناچاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی وہ رعمیس دوم تھا۔اور جوآپ کی مخالفت کی وجہ سے تباہ ہواوہ منفتاح تھا۔آمان دیوتاکے بڑے کاہن کاپہلی مرتبہ انتخاب رعمسیس دوم کے زمانہ میں ہواتھا اوراسی زمانہ سے آمان کاکاہن اعظم فرعون کے نظام حکومت کاممتاز ترین فردسمجھاجانے لگاتھا۔چنانچہ اس بارہ میں ’’الیگزنڈر مارٹ‘‘اپنی کتاب’’ نیل اور مصر کی تہذیب ‘‘میں لکھتاہے۔’’ رعمسیس دوم نے اپنے عہد حکومت کے سال اول میں ’’نَے بُنْ نیف‘‘کو آمان کاکاہن اعلیٰ منتخب کیا۔یہ شخص اس سے قبل ھاتوردیوتاکاکاہن اول اور مصر کے سب دیوتائوں کے کاہنوں کاسردار تھا۔اوربادشاہ اس کی نشاندہی بھی کرچکاتھالیکن اسے باقاعد ہ طور پر نامزد اس وقت کیا گیا جبکہ بادشاہ نے آمان دیوتا کے حضو ر معبدِ کرناک میں حاضر ہوکر اپنے دربار کے تمام افسروں، تمام کاہنوں اور تمام بزرگوں کواس عہدہ کے لئے پیش کیا۔مگرآمان دیوتا نے سوائے ’’نَے بُنْ نیف‘‘کے اَورکسی پررضامندی کااظہار نہ کیا۔جب انتخاب عمل میں آچکا توبادشاہ نے ’’ نَے بُنْ نیف ‘‘ سے مخاطب ہوکر کہا۔اب آپ ہی آمان کے کاہن اعلیٰ ہیں۔معبدِ آمان کے دونوں خزانے اوراس کے دوہرے غلّہ کے گودام اب آپ کی مہر کے ماتحت ہیں۔ہاتو ردیوتا کامعبد اب آپ کے بیٹے کے عصائے حکومت کے تحت ہوگا۔اوراسی منصب پر فائز ہوگاجوآپ کے لئے مخصوص تھا۔تمام درباریوں اور اس کے تین ججوں نے اس انتخاب پر بادشاہ اورکاہن اعظم کو مبارکباددی۔پھر بادشاہ نے اپنی دوخاص طلائی مہریں اورسونے کاشاہی عصا نَے بُنْ نیف کو نذر کیا اور اسے مندرجہ ذیل خطابات کے ساتھ اپنے عہدہ پر فائز کیا۔FIRST PROPHET OF AMON DIRECTOR OF THE DOUBLE TREASURY AND DIRECTOR OF THE SOLDIERS AND ALL THE CRAFTSMEN OF THEBES