تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 201

ایسانہیں تھا جس کاوزیر یامصاحب اعلیٰ ہامان نامی گذراہو۔اورنہ ہی اخسویرس بادشاہ کی کوئی ملکہ آسترتھی یہ سب خلافِ تاریخ واقعات ہیں جو اس کتاب میں جمع کردیئے گئے ہیں (ہارپرز بائیبل ڈکشنری از ملّر زیر لفظ آستر )پس عیسائیوں نے جس کتاب کی بناپر یہ اعتراض کیاہے وہ تاریخی حیثیت سے ایک ناقابلِ اعتبار کتاب ہے۔اور جب خود اس کی حیثیت مخدوش ہے تواس کی بناپر اسلام پر کوئی اعتراض کرناکس طرح درست ہو سکتا ہے۔قرآن کریم نے ہامان کے متعلق جو اموربیان کئے ہیں وہ یہ ہیں۔اول ھامان کو مصر میں فوجی اقتدار حاصل تھا۔اورجس طرح فرعون کالشکر تھا اسی طرح ہامان بھی اپنے ساتھ لشکر رکھتاتھا۔چنانچہ فرماتا ہے۔اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ(القصص : ۹)یعنی فرعون ہامان اوران دونوں کے لشکر خطاکار اور گنہگار تھے۔یہی مضمون آیت۷ میں بیان کیاگیا ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ نُرِيَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ۔یعنی ہم نے یہ فیصلہ کردیاتھا کہ ہم فرعون او رہامان اوران دونوں کے لشکروں کووہ کچھ دکھائیں گے جس کاانہیں خطرہ لاحق تھا۔دوم۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ بلندو بالا عمارات اور قلعوں وغیرہ کی تعمیرکاکام ہامان کی نگرانی میں ہواکرتاتھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ایک دفعہ فرعون نے ہامان سے کہا۔فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ(القصص : ۳۹)یعنی اے ہامان!میرے لئے ایک بہت بلند اوراونچی عمارت بنائو۔شاید کہ اس پر چڑھ کر مجھے کہیں موسیٰ ؑ کا خدانظر آجائے۔مگر اس کے ساتھ ہی اس نے کہا کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ مجھے موسیٰ ؑ کی سچائی کاکچھ کچھ یقین آگیاہے۔میں اسے توجھوٹاسمجھتاہوں۔لیکن اس کافائدہ یہ ہوگا۔کہ اس سے دوسرے لوگوں کو بھی اس کے جھوٹاہونے کایقین ہوجائے گا۔اب اگرقدیم مصر کی تاریخ سے ہمیں کسی ایسی شخصیت کاپتہ لگ جائے جوفرعونِ موسیٰ ؑ کے زمانہ میں ہواور پھر ہمیں یہ بھی پتہ لگ جائے کہ اس کے ساتھ فوجی طاقت بھی تھی اوربلند و بالا عمارات او رقلعے وغیرہ بنانے کاکام بھی اس کے سپر د تھا تو قرآن کریم کی صداقت بالکل واضح ہوجائے گی۔اس غرض کے لئے جب ہم تاریخ کامطالعہ کرتے ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ مصرِ قدیم میں بہت سے دیوتائوں کی پرستش ہوتی تھی اورہرشخص کاتعلق کسی خاص دیوتایاچند مخصوص دیوتائوں کے ساتھ ہواکرتاتھا۔مصر کے دارالخلافہ تھیبس کے رہنے والے اپنے دیوتا کو آمان یاآمون کہا کرتے تھے۔قدیم ایام میں تواس کا نام ’’ آمانا‘‘تھا۔لیکن رفتہ رفتہ آمن۔آمان یا آمون نام لوگوں میں مروج ہوگیا۔چونکہ آمن یاآمان یاآمون ان لوگوں کا دیوتاتھا جو مصر کے پائیہ تخت میں رہتے تھے اوردارالسلطنت کاملک