تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 196
کسی شخص کے پیروکار اورمددگار۔نیز اَلشِّیْعَۃُ کے معنے ہیں اَلْفِرْقَۃُ۔گروہ(اقرب) یَحْذَرُوْنَ:یَحْذَرُوْنَ حَذِرَسے فعل مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اورحَذِرَ یَحْذَرُ (حِذْرًا وَ حَذَرًا وَمَحْذُوْرَۃً) کے معنے ہیں تَحَرَّزَمِنْہُ۔اس سے بوجہ خوف اجتناب کیا (اقرب) پس مَاکَانُوْا یَحْذَرُوْنَ کے معنے ہوں گے جس کاان کو خوف لاحق تھا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔موسیٰ ؑ کاواقعہ یوں ہواکہ فرعون نے اپنی حکومت کے گھمنڈ میں تکبر شروع کردیا۔اور لوگوں پر تعدّی کرنی شروع کردی۔و ہ تمام رعایاکے ساتھ ایک ساسلوک نہیں کرتاتھا۔نہ ان کی ترقی کی طرف توجہ کرتاتھا۔بلکہ مختلف نسلوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والوںکو آپس میں لڑواتاتھا۔اوربعض لوگوں کو پسندیدہ اور منتخب جماعت قرار دیتاتھا۔اوربعض کو حقیر اورحکومت کی حفاظت سے خار ج قرار دیتاتھا۔اوررعایاکے ایک طبقہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتاتھا۔اوران کی نرینہ اولاد وں کو ہلاک کردیتاتھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتاتھا۔و ہ یقیناً زمین میں فساد کررہاتھا۔لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیاتھا (اوراس زمانہ میں بھی فیصلہ کیاہے ) کہ جن کوکمزور کیاجارہاہے ہم ان پر احسان کر یں اور ہم ان کو دنیاکاسردار بنادیں اورہم ان کو ان انعامات کاوارث کردیں جو فرعون اور اس کے قریبیوں کو حاصل تھے۔اورہم ان کو ملک میں طاقت بخشیں۔اورہم نے یہ بھی فیصلہ کردیاتھا کہ فرعون او راس کے ساتھی ہامان کو اوران دونوںکے لشکروںکو وہ انجام دکھا دیں جس سے وہ ڈررہے تھے۔یعنی یہ خوف کہ ملک کی بعض قومیں طاقتور ہوکر ان کو نقصان نہ پہنچادیں۔وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا سے ظاہر ہے کہ فرعو ن نے ’’ڈیوائیڈ اینڈ رول‘‘کی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی اوروہ جابر بادشاہوں کی طرح لوگوں کو ہمیشہ آپس میں لڑواتارہتاتھا تاکہ ان میں اتحاد او ریکجہتی پیدانہ ہو اوراس کے مظالم کی طرف لوگوں کی توجہ نہ پھر ے۔جس طرح جابر بادشاہ بعض قوموں کی حمایت کرنا شروع کردیتے ہیں اوربعض کو ذلیل کردیتے ہیں اور اس طرح مستقل طور پر ایک دوسرے کے خلاف تنافراوربغض اور حسد کے جذبات بھڑ کاتے ہیں اسی طرح فرعون کی بھی یہی کوشش رہتی تھی کہ اسرائیلیوں اورغیراسرائیلیوں کا جھگڑاقائم رہے اوراس کی حکومت کے ظالمانہ افعال کی طرف ان کی توجہ نہ پھر ے۔بہرحال قرآن مجید اس پالیسی کی شدید مذمت کرتاہے اوراسے فساد فی الارض کی بنیاد قراردیتاہے۔اسلام کے نزدیک قانون کا اطلاق غریب او رامیر اورعالم اورجاہل پر یکساں ہوناچاہیے اوراس بار ہ میں کسی قسم کاامتیاز روانہ رکھناچاہیے۔اوردرحقیقت دنیا میں وہی حکومت پائیدار امن قائم کرنے کاموجب ہوسکتی ہے جواس امتیاز کوکلیۃً دور کردے۔اورقومی، ملکی ،نسلی یا مذہبی اختلاف کی بناپر عدل و انصاف