تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 197

کے تقاضوں کو نہ کچلے۔فرعون چونکہ بنی اسرائیل کو کمزور کرناچاہتاتھا اس لئے اس نے پہلے توبنی سرائیل کی نسل کو دائیوں کے ذریعہ بند کرناچاہا۔مگر جب اس سکیم میں اسے ناکامی ہوئی اوردائیوں نے رحم سے کام لیاتواس نے لڑکوںکو دریامیں ڈالے جانے اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کاحکم دیا۔چنانچہ خروج باب ۱ میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھاہے۔’’تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائیوں سے جن میںایک کانام سفرہ اوردوسری کافوعہ تھا باتیں کیں۔اورکہا کہ جب عبرانی عورتوں کے تم بچہ جنائو۔اوران کو پتھر کی بیٹھکو ںپر بیٹھی دیکھو تواگر بیٹاہوتواسے مار ڈالنا اوراگربیٹی ہوتو وہ جیتی رہے۔لیکن وہ دائیاں خدا سے ڈرتی تھیں۔سوانہوں نے مصر کے بادشاہ کاحکم نہ مانا بلکہ لڑکو ں کو جیتاچھو ڑدیتی تھیں۔پھر مصر کے بادشاہ نے دائیوں کو بلواکر ان سے کہا۔تم نے ایساکیوں کیا کہ لڑکوں کو جیتارہنے دیا؟دائیوں نے فرعون سے کہا۔عبرانی عورتیں مصری عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔وہ ایسی مضبوط ہوتی ہیں کہ دائیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی جَن کر فارغ ہوجاتی ہیں۔پس خدا نے دائیوں کابھلاکیا اورلوگ بڑھے اور زبردست ہوگئے۔اوراس سبب سے کہ دائیاں خدا سے ڈر یں ا س نے ان کے گھر آباد کردیئے۔اورفرعون نے اپنی قوم کے سب لوگوں کو تاکیداً کہا۔کہ ان میں جو بیٹاہوتم اسے دریا میں ڈال دینا اورجو بیٹی ہو اسے جیتی چھوڑنا۔‘‘ (خروج باب ۱آیت ۱۵ تا۲۲) قرآن کریم نے اس واقعہ کے متعلق يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ کے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں اس سے بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ فرعون بچوں کاگلا گھونٹ دیاکرتاتھا۔مگر یہ درست نہیں۔ذبح کے ایک معنے لغت میں ہلاک کردینے کے بھی لکھے ہیں(تاج العروس) پس يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ کے معنے یہ ہیں کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ہلاک کردیتاتھا۔خواہ یہ ہلاکت دریا میں ڈبودینے سے ہو یاکسی اورذریعہ سے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَکُمْ کے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں (الاعراف :۱۴۲)جس سے ان معنوں کی وضاحت ہوجاتی ہے۔قرآن کریم نے بنی سرائیل کے بچوںکے قتل ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سورئہ بقرۃ میں بھی یَذْبَحُوْنَ کی بجائے یُذَبِّحُوْنَ کے الفاظ استعمال کئے ہیں (البقرۃ : ۵۰)کیونکہ عربی زبان کے قواعد کی رُو سے یُذَبِّحُوْنَ کے معنوں میں زیادہ شدت او رسختی پائی جاتی ہے۔اگر یَذْبَحُوْنَ کہاجاتاتواس کامطلب صرف یہ ہوتاکہ وہ ہلاک کرتے