تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 195
کاواقعہ سناتے ہیں لیکن اس شکل میں سناتے ہیں جس شکل میں وہ ہواتھا۔یعنی تورات نے اس میں بہت سے انسانی خیالات ملادیئے ہیں۔توان انسانی خیالات کو الگ کرکے اصل حقیقت لوگوں کے سامنے بیان کر۔قرآن شریف کی اس آیت کی تصدیق پادری وہیری کے نوٹ سے ظاہرہوجاتی ہے۔وہ اس جگہ لکھتے ہیںکہ یہاں محمدؐ رسول اللہ نے موسیٰ ؑ کے سارے حالا ت بیان نہیں کئے۔جس سے پتہ لگتاہے کہ انہیں یہودیوںسے نامکمل حالات پہنچے تھے۔لیکن قرآن نے پہلے سے وہیری کے اس اعتراض کو مد نظررکھتے ہوئے بتادیاتھاکہ سچاواقعہ وہی ہے جو ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں۔اگراس کے علاوہ کوئی اَورواقعہ تیرے پاس بیان کیا جائے تواس کو ہرگز سچانہ سمجھ۔اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا فرعون نے (اپنے )ملک میں بڑی تعلّی سے کام لیاتھا اوراس کے رہنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑ ے کردیاتھا۔يَّسْتَضْعِفُ طَآىِٕفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ يَسْتَحْيٖ وہ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کرناچاہتاتھا۔(اس طرح کہ) ان کے بیٹوں کو قتل کرتاتھااور ان کی نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۰۰۵وَ نُرِيْدُ اَنْ لڑکیوں کوزندہ رکھتاتھا۔اوروہ یقیناًفسادیوں میں سے تھا۔اورہم نے ارادہ کررکھاتھاکہ جن لوگوں نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ کو اس نے ملک میں کمزور سمجھ رکھاتھا ان پر احسان کریں اوران کو سردار بنادیں اوران کو (تمام نعمتوں کا ) اَىِٕمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَۙ۰۰۶وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وارث کردیں۔اوران کو ملک میں تمکنت بخشیں اورفرعون اور ہامان اوران کے لشکروں کو وہ کچھ دکھائیں وَ نُرِيَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ۰۰۷ جس کاان کو خوف لگاہواتھا۔حل لغات۔شِیَعًا:شِیَعًاشِیْعَۃٌ کی جمع ہے اور شِیْعَۃُالرَّجُلِ کے معنے ہیں اَتْبَاعُہٗ وَاَنْصَارُہٗ۔