تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 15
رہیں اوران کے الفاظ اوران کی عبارتیں ہی بتارہی ہیں کہ ان کی حقیقت بدل گئی ہے۔نیز کتاب وجوب پر دلالت کرتی ہے۔اورصرف قرآن کریم ہی ا ب ایک ایسی کتاب ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے۔چنانچہ آج بھی اس کے ہرحکم پر لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ عمل کرتے ہیں۔مگر تورات،انجیل ،وید اورژند پر بہت کم عمل ہوتاہے۔پس قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے کیابلحاظ اس کے کہ وہ ساتھ کے ساتھ لکھی جاتی رہی اوراب تک بغیر کسی زیر اورزبر کے فرق کے وہ وہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئی اور کیا بلحاظ اس کے کہ یہی وہ کتاب ہے جس پر دنیا میں عمل کیا جاتا ہے باقی مذاہب والے بیشک اپنی الہامی کتب کو شائع کرتے اوران کے متعلق اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔بلکہ ان کی تعلیموں سے اختلاف رکھنے والوں کو بُرابھلابھی کہتے ہیں مگر جب عمل کاسوال آتاہے تووہ ان کتابوں کو بالائے طاق رکھنے پر مجبورہوجاتے ہیں اوریہ دونوں حقائق ظاہر وباہرہیں۔نولڈ کے جرمن کا مشہور مستشرق لکھتاہے کہ ’’ ممکن ہے تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں ہوں توہوں۔لیکن جوقرآن عثمانؓ نے دنیا کے سامنے پیش کیاتھااس کامضمون وہی ہے جومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے پیش کیاتھا۔گواس کی ترتیب عجیب ہے۔یوروپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔‘‘ (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ قرآن) اسی طرح سرولیم میو راپنی کتاب ’’ لائف آف محمد ‘‘ میں لکھتاہے کہ ’’اس زمانہ میں جو قرآن موجود ہے اس کے متعلق ہم ویسے ہی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اصلی صورت میں محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کابنایاہواکلام ہے جس یقین سے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ خدا کا غیر مبدل کلام ہے۔‘‘ (Life of Muhammad by sir Willaim Muir pg 562۔563) اس کے مقابل پر تورات اوراناجیل کے متعلق خود بڑے بڑے پادری تسلیم کرتے ہیں کہ وہ محرف و مبدل ہوچکی ہیں۔پس دنیائے مذاہب کی تمام الہامی کتب میں سے صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جسے صحیح معنوں میں کتاب کہاجاسکتاہے اورجس کاایک ایک لفظ اورایک ایک حرف ا سی شکل میں محفوظ ہے جس شکل میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔پھر عمل کو لو۔توعیسائی کہنے کوتوکہتے ہیں کہ مسیح ؑ نے یہ کتنی اچھی تعلیم دی ہے کہ