تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 194
ہیں صرف طٰسٓ سے شروع کیاگیا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کامجد اوراس کی بزرگی جتنی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے ظاہر ہوئی ہے جن کاسور ئہ شعراء میں ذکر آتاہے اتنی بزرگی موسیٰ اورسلیمان علیہم السلام کے وجود سے ظاہر نہیں ہوئی جن کا ذکر سورئہ نمل میں آتاہے۔اب اس سورۃ میں پھر طٰسٓ کے بعد میم بڑھادیاگیاہے۔کیونکہ اس سورۃ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاخاص طور پر ذکر کیاگیاہے خصوصاً فتح مکہ کا۔جس سے اللہ تعالیٰ کی بزرگی ظاہرہوئی۔تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۰۰۳ یہ (یعنی اس سورۃ کی آیات) ایک مدلّل کتاب کی آیات ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اس سورۃ میں جوآیتیں بیان کی گئی ہیں وہ ایک کتاب مبین کی آیتیں ہیں۔یعنی اس کتاب کی جوسب مضمونوں کو کھول کربیان کرتی ہے یادوسرے لفظوں میں ہرمضمون کی دلیلیں دیتی ہے۔اس آیت میں سورئہ نمل کی آخری آیت وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَا اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ۔پروارد ہونے والےاس سوال کابھی جواب دے دیاگیاہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف منذر بنایاہے زبردستی کرنے کی اجازت نہیں دی۔اوراس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان پر نازل ہونے والی کتاب ہرمضمون کے دلائل پیش کرتی ہے۔اورجس کے ساتھ مدلّل کتاب ہو اورجس کے ہردعویٰ کاثبوت موجود ہو اسے زبردستی کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔اگر کوئی شخص اس کی باتوں کو سن کر سچے دل سے غور کرے گا توآپ ہی ہدایت پا جائے گا۔اوراگرغور نہیں کرناچاہے گاتواس پر زبردستی کرنابیکار ہے کیونکہ جس کودلیل ٹھیک نہیں کرسکتی جبر بھی اس کو ٹھیک نہیں کرسکتا۔نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ مومن قوم کے فائدہ کے لئے ہم موسیٰ اور فرعون کے صحیح سوانح تیرے يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۴ سامنے پڑھتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے اے محمدؐ رسول اللہ!خدا تعالیٰ کےلطیف اور سمیع ہونے کی مثال کے طور پر ہم تجھے موسیٰ ؑ