تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 193

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں )اللہ (تعالیٰ)کانام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا(اور)بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتاہوں) طٰسٓمّٓ۰۰۲ طاہر(پاک)سمیع (دعائیں سننے والا)مجید (بڑی بزرگی والاخدااس سورۃ کونازل کرنے والا ہے)۔تفسیر۔اس سورۃ کے ابتداء میں حروف مقطعات طٰسٓمّٓ رکھے گئے ہیں۔جولطیف۔سمیع اورمالک یا مجید کے قائم مقام ہیں۔اوراس کے معنے یہ ہیں کہ خدا لطیف ہے اوروہ لطف اور مہربانی سے کام لیتا ہے جبر اورسختی سے کام نہیںلیتا۔وہ سمیع ہے۔جب دنیا ہدایت سے محروم ہوئی اوران کے دلوں میں سے خدا تعالیٰ کی طرف پکار اٹھی کہ ہمیں ہدایت دے تو اس نے یہ قرآن بھیج دیا۔وہ مالک ہے مخلوق کا اس لئے وہ اپنے بندوں کویونہی نہیں چھوڑ سکتاتھا۔یامیم مجید کاقائم مقام ہے۔اس صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ خدابڑی بزرگی والا ہے۔پس یہ اس کی شان کے خلاف تھا کہ اس کے کمزور بندے ہدایت سے محروم ہوتے۔اوروہ ان کی خبر نہ لیتا۔اور چونکہ انہی صفات کو سورئہ شعراء کے ابتداء میں بھی بیان کیا گیا ہے اس لئے مغزِ مضمون کے لحاظ سے ان دونوں سورتوں کامضمون آپس میں ملتاجلتاہے۔بعض لوگ قرآن کریم پر تدبر نہ کرنے کی وجہ سے کہاکرتے ہیں کہ اس کی آیتیں اورسورتیں یوں ہی بے جوڑ رکھی گئی ہیں۔حالانکہ ایک ادنیٰ غور سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کی سورتیں بھی کسی خاص مقصد کے ساتھ آگے پیچھے رکھی گئی ہیں۔اوراس کی آیتیں بھی اپنے اند رترتیب او رجوڑ رکھتی ہیں۔چنانچہ سورۃ شعراء اورسورئہ قصص کودیکھ لو۔سورئہ شعراء سے پہلے بھی طٰسٓمّٓ حروف مقطعات کے طور پر رکھے گئے ہیں۔اورسورئہ قصص سے پہلے بھی طٰسٓمّٓ حروف مقطعات کے طور پر رکھے گئے ہیں۔اورسورئہ شعراء میںبھی ان حروف کے بعد یہ آیت ہے کہ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔اوراس سورۃ میں بھی طٰسٓمّٓ کے بعد یہ آیت ہےتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ حروف مقطعات کسی خاص غرض کے لئے ہوتے ہیں۔اورایک جیسے حروف ایک ہی قسم کے مضمون پر دلالت کرتے ہیں۔ہم نے سورئہ نمل کے تفسیری نوٹوں میں بتایاتھاکہ سورئہ نمل کو طٰسٓمّٓ کی بجائے جوشعراء سے پہلے رکھے گئے