تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 192

سارے خاندان کو ایساذلیل کیا کہ نہ توکوئی گروہ اس کی مدد کے لئے نکلا اورنہ وہ خود اپنی حالت کو بدل سکا۔اورلوگوں کو اقرار کرناپڑا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کاانجام ایسا ہی ہواکرتاہے۔(آیت ۷۷تا۸۳) اس کے بعد بتایاکہ جو لوگ ملک میں ناجائزغلبہ کے حصول کی کوشش نہیں کرتے اورنہ فساد پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہی کو ترقیات سے حصہ دیاکرتاہے۔(آیت ۸۴) پھر نیکی اور بدی کی جزاء کے متعلق روشنی ڈالی اور بتایاکہ ہمارایہ اصول ہے کہ نیکی کابدلہ توکام کی نسبت سے بہت زیادہ دیاجاتاہے لیکن بد ی کی سزا صرف اسی قدر دی جاتی ہے جس قدر قصور ہوتاہے۔اورپھر پیشگوئی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گوایک دن تیری قوم تجھے مکہ سے نکال دے گی لیکن وہ خداجس نے تجھ پر قرآن فرض کیاہے وہ اپنی ذات کی قسم کھاکر تجھ سے یہ وعدہ کرتاہے کہ وہ تجھے پھر مکہ میں واپس لائے گااور تجھے ان لوگوں پر غلبہ عطافرمائے گا۔وہ خوب جانتاہے کہ کو ن ہدایت لے کرآیا ہے اورکون اس کا انکار کرکے گمراہ ہوچکاہے۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ ہدایت لانے والا ناکام رہے اور گمراہ کامیاب ہوجائیں۔(آیت ۸۵و۸۶) اے قرآن کے مخاطب اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھنے کے بعد تیرافرض ہے کہ توکفار کاکبھی مددگار نہ بن اور کبھی شرک کے قریب مت جااور کبھی اللہ تعالیٰ کے سواکسی اَورکواپنا معبود نہ بنا۔کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں۔دنیا کی ہرچیز حتیٰ کہ ہرمزعومہ معبود بھی ہلاک ہوگا اور صرف وہی بچیں گے جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی کیونکہ حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہی چلتاہے اور سب مخلوقات نے پیش بھی اسی کے حضورہوناہے۔