تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 14
کتاب کالفظ بعد میں رکھا گیا۔پھرایک اَور حکمت بھی ان الفاظ کے آگے پیچھے کرنے میں ہے۔اوروہ یہ کہ سورئہ حجرمیں ان انبیا ء کا ذکر تھا جن میں کتابت کا رواج کم تھا اورعلوم کو زبانی یاد رکھاجاتاتھا۔جیسے حضرت آدمؑ۔حضرت ابراہیمؑ۔حضرت لوط ؑ۔حضرت شعیبؑ اور حضرت صالح ؑ وغیرہ۔ان سب کے زمانوں میںتحریر کارواج کم تھا۔اور چونکہ سورئہ حجر میں انہی انبیاء کی قوموں سے خطاب کیاگیاہے جن میں تحریر کارواج کم تھا اورجنہوں نے حفظ کے ذریعہ سے قرآنی علوم سے فائدہ اٹھاناتھا۔اس لئے اُس سورۃ میں قرآن کے ساتھ مبین کا لفظ رکھا اوربتایاکہ ان اقوام میں اس کلام کی صفت قرآن لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچائے گی۔لیکن کتاب کی صفت بھی ساتھ ہی بیان کردی تاکہ قرآن کریم کی مکمل حفاظت کا اظہار ہو۔لیکن اس سورۃ میں کتاب کے ساتھ مبین کالفظ لگایاگیاہے۔کیونکہ اس سورۃ میں حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے واقعات پر زوردیاگیاہے جو بنی اسرائیل میں سے تھے او رجن میں کتابت کا رواج زیاد ہ اورزبانی یاد رکھنے کارواج کم تھا۔ان انبیاء کی اقوام نے چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام کی صفتِ کتاب سے بہ نسبت صفت قرآن کے زیادہ فائدہ اٹھاناتھا اس لئے اس کی مناسبت سے اس جگہ قرآن کے لفظ پر کم اورکتاب پر زیادہ زوردیا۔مگر دونوں صفات کااکٹھا ذکرکرکے اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی کہ قرآن کریم حفظ بھی کیاجائے گا۔اورلکھا بھی جائے گا۔لیکن وہ قومیں جو تحریر سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ہیں وہ اسے کتاب سے پڑھ کرزیادہ فائدہ اٹھائیں گی اوراس سورۃ میں وہی قومیں مخاطب کی گئی ہیں۔گویاوہ قومیں جو حافظہ سے زیادہ کام لیتی ہیں ان کے لئے تویہ قرآن مبین ہوگا۔اورجوقومیں تحریر سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں ان کے لئے یہ کتاب مبین ہوگا۔قرآن کریم پر نظر غائر ڈالنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اس میں قرآن مبین کالفظ صرف دودفعہ اور کتاب مبین کالفظ بارہ دفعہ استعمال ہواہے۔جس میں اس امر کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ قرآن کریم کاکتاب ہونے کے لحاظ سے حلقہ زیادہ وسیع ہوگااور اکثر لوگ اس کے کتاب ہونے سے ہی فائدہ اٹھائیں گے گوایک طبقہ ایسابھی ہوگاجو حفظ کے ذریعہ اس کی برکات سے بہرہ اندوز ہوگا۔اوراس طرح مسلمانوں کوتوجہ دلائی گئی ہے کہ وہ تعلیم کارواج زیادہ کریں تاکہ مسلمان قرآنی برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہوسکیں۔پھر تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ میں قرآن کریم کی دوسری فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک کتاب ہے یعنی وہ لکھی ہوئی اورمحفوظ ہے جبکہ باقی الہامی کتب اب صرف نام کی کتاب رہ گئی ہیں حقیقتاً وہ اب کتاب نہیں