تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 181

کاہمیں مسلم کالقب عطافرمانا نہ صرف اس بات کا مقتضی ہے کہ ہم وہ صفات اپنے اند رپیداکریں جن کا یہ نام متحمل ہے۔بلکہ اس میں یہ اشارہ بھی مضمر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے اطاعت و فرمانبرداری کے اعلیٰ معیار پر قائم ہوتے ہوئے جب بھی دینی اور دنیوی اعتبار سے بڑھنے اورترقی کرنے کی کوشش کریں گے تو خدا تعالیٰ انہیں اعلیٰ درجات سے ضرور نوازے گا۔پس حقیقی اسلام کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی کامل فرنبرداری اوراطاعت کی روح ہمارے اندر اس طرح رچی ہوئی ہوکہ اس کی مرضی اورمنشاء کے خلاف کوئی ایک قدم اٹھانا بھی ہمارے لئے ناممکن ہو تاکہ ہم محض نام کے اعتبارسے ہی مسلمان نہ کہلائیںبلکہ ہماراعمل اورہماراکردار بھی اس بات کی گواہی دے کہ فی الواقع ہم اس نام کے مستحق ہیں اورہمارااٹھنا اورہمارابیٹھنا او رہماراچلنااورہماراپھرنا غرض ہماری ہر حرکت اور ہمارا ہرسکون اس نام کے شایانِ شان ہو۔پھر فرماتا ہے وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ مجھے یہ بھی حکم دیاگیاہے کہ میں سب لوگوں کو قرآن کریم پڑھ کر سنائوں اور انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کروں۔فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَاس کے نتیجہ میں جو شخص ہدایت پائے گااس کافائدہ اسی کو پہنچے گااوراگروہ گمراہ ہوجائے تومجھے یہ کہنے کاحکم ہے کہ میں کسی پر جبر نہیں کروں گا۔صرف خدا کاپیغام پہنچائوں گا آگے ہرشخص آزاد ہے و ہ چاہے تومان لے اور چاہے توانکار کردے۔وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ اوریہ بھی کہہ دے کہ اللہ ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے وہ تم کو اپنے نشان دکھائے گا یہاں تک کہ تم ان کو پہچان بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَؒ۰۰۹۴ لو گے اور تمہارارب تمہارے عمل سے غافل نہیں۔تفسیر۔آخر میں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہنے کابھی حکم دیاگیاہے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے۔یعنی اسلام جس خدا کوپیش کرتاہے وہ ایک زندہ اور طاقتور خداہے اس نے آدمؑ کے زمانہ میں بھی اپنے نشانات دکھائے اورنوح ؑ کے زمانہ میں بھی اپنے نشانات دکھائے اور ابراہیمؑ کے زمانہ میں بھی اپنے نشانات دکھائے اورموسیٰ ؑ کے زمانہ میں بھی اپنے نشانات دکھائے۔اوردائود ؑ اورسلیمان ؑ اورصالح ؑ اورلوط ؑ کے زمانے