تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 180
کے ذریعہ جُودی سے ظاہر ہوا۔کبھی ابراہیمؑ کے ذریعہ مکہ مکرمہ سے ظاہر ہوا۔کبھی موسیٰ ؑ کے ذریعہ سینا سے ظاہر ہوا۔کبھی عیسیٰ ؑ کے ذریعہ جبل زیتون سے ظاہر ہوا۔لیکن مجھے اس نے یہ حکم دیاہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔یعنی اس جلوہ کے پیچھے چلو ں جو مکہ مکرمہ میں حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعہ ظاہر ہواتھا۔اورجس نے اس شہر کو عزت اورحفاظت بخشی تھی۔اوراس بات کااعلان کروں کہ ہرچیز اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اوریہ کہوں کہ مجھے صرف باتیں بتانے کاحکم نہیں دیاگیا بلکہ یہ حکم دیاگیاہے کہ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔میں عملاً فرمانبرداری کانمونہ بن کر دکھائوں۔یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ اگرچہ اسلام اس مذہب کانام ہے جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملا ہے۔او رمسلم کے نام سے وہی لوگ پکارے جاتے ہیں جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر ایمان لاکر آپؐ کو اپنا مقتداء او رپیشوامانتے ہیں لیکن قرآن کریم نے محاورہ کے طور پر دوسرے انبیاء اوران کے سچے متبعین کوبھی مسلم کے لفظ سے یادکیاہے (دیکھو آل عمران آیت ۶۸و یوسف آیت ۱۰۲و بقرۃ آیت ۱۲۹و بقرۃ آیت ۱۳۳)۔یہ ظاہر ہے کہ ان سب کا مسلمان ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعد از ظہور ایمان لانے کی وجہ سے تونہیں ہوسکتا۔کیونکہ ان کے سامنے تو نہ قرآن مجید کی شکل میں کامل شریعت موجود تھی اورنہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت معرض وجود میں آئی تھی۔دراصل قرآنی محاورہ کے روسے ان کامسلمان قرار پاناصاف اشارہ کررہاہے کہ اسلام کے دومعنے ہیںایک تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوماننے والا مسلمان ہے اور دوسرے وہ شخص بھی مسلمان کہلاتاہے جو مطیع اورفرمانبردار ہو۔چنانچہ مسلمان کی مؤخرالذکر حیثیت کے اعتبار سے ہی ہر وہ شخص جو مطیع وفرمانبردار تھا خواہ وہ آدمؑ کافرمانبردار تھا یانوح ؑ کافرمانبردار تھا یا ابراہیم ؑ کافرمانبردار تھا یاموسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کافرمانبردارتھا و ہ مسلمان تھا۔لیکن مسلمانوںکو دو قسم کااسلام حاصل ہے ایک تواس اعتبارسے وہ مسلمان ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کانام ہی مسلم رکھا گیاہے۔دوسرے اطاعت و فرمانبردار ی کی اس روح کے اعتبارسے بھی وہ مسلم ہیں جوہرنبی کے متبعین کے لئے دنیا میں وجہِ امتیاز بنی۔پس تما م دوسرے انبیاء کی جماعتوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کویہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ دوہرے مسلم ہیں۔انبیاء کی جماعتیں اطاعت و فرمانبردار ی کے باعث تومسلم ہوتی ہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ خاص طور پر ہمارانام بھی مسلم رکھاہے (الحج:۷۹)۔اوراللہ تعالیٰ جب کسی کانام رکھتاہے تو وہ بندوں کی طرح محض تفاول کے طور پر نہیں رکھتا۔بلکہ وہ قادر و تواناجب اراد ہ کرتاہے کہ کسی قوم کے افراد خاص خاص صفات کے حامل ہوں تبھی وہ انہیں کوئی مخصوص نام عطاکرتاہے۔پس خدا تعالیٰ