تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 182

میں بھی اپنے نشانات دکھائے اور عیسیٰ ؑ کے زمانہ میں بھی اپنے نشانات دکھائے۔اورجب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے توان کی تائید میں بھی وہ اپنے نشانات دکھاتارہا۔اورپھر جب مسلمانوں پر تنزل کادور آیا تواسلام کے دوبارہ احیاء کے لئے اس نے مسیح موعود ؑ کو مبعوث فرماکر پھر اپنی قدرت اورجلال کے تازہ نشانات دکھانے شروع کردیئے۔پس تمام تعریفوں کی مستحق صر ف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے ہرزمانہ میں اپنی زندگی کادثبوت دیا۔اورہرزمانہ میں نشانات کے ذریعہ دنیا کو اپنا چہرہ دکھایا۔اگر وہ صرف آدم ؑ یانوح ؑ یاابراہیم ؑ یاموسیٰ ؑ یادائود ؑ یاسلیمانؑ یاعیسیٰ ؑ کے زمانہ تک اپنی قدرت نمائی کوختم کردیتا توہم یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ الحمد للہ !ہمارا الحمد للہ کہنا اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے جبکہ ہم خود بھی اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کے چمکتے ہوئے نشانات دیکھیں۔اورہرزمانہ میں اس کی قدرتوںکاظہور ہوتاچلاجائے۔پس فرمایاتو دنیا کوسنادے کہ اسلام ایک زندہ خداپیش کرتا ہے۔اگرتم اس سے تعلق پیداکرلو گے تووہ تمہیں ایسے نشانات دکھائے گا جس کے نتیجہ میں تم اپنی روحانی آنکھوںسے خدا تعالیٰ کودیکھ لو گے۔وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اوراللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں و ہ جانتاہے کہ تم اندھیروں میں پڑے ہو اوررسموں میں جکڑے ہوئے ہو۔پس وہ تمہیں آزاد کرنے کے لئے خود آسمان سے اترے گا اور ایسے نشانات دکھائے گا جو تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کے وجود کولاکرکھڑاکردیں گے۔خ خ خ خ