تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 179

خدمت کرتا ہوا مارا جائوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایامجھے اپنی جان ہی کی قسم ہے کہ اگر میں نے یہ قانون نہ بنادیاہوتاکہ میں کسی انسان کو دوبارہ دنیا میں واپس نہیں بھیجوں گا۔تومیں تیری اس خواہش کو ضرور پوراکردیتا(ترمذی ابواب التفسیر زیر آیت وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِی سَبِیْلِ اللہ اَمْوَاتًا)۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کووقت سے پہلے قربانیاں بڑی بھاری اورگراں نظر آتی ہیں۔مگرجب ان قربانیوں کانتیجہ نکلتاہے تواسے اپنی قربانیاں بالکل حقیر نظر آنے لگتی ہیں۔ہرطالب علم جوسکول جاتاہے وہ اپنا سکول جاناکتنی مصیبت سمجھتاہے۔لیکن تمہیں کوئی طالب علم ایسانظر نہیں آئے گاجواپنی گذشتہ محنت پرافسوس کااظہار کرتاہو۔بلکہ جب اس کی محنت کانتیجہ نکلتاہے اوروہ دنیا میں بڑے بڑے مراتب حاصل کرتاہے تو اسے اپنی محنت بالکل حقیر نظر آتی ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ جوشخص نیک اعمال بجالائے گا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسابدلہ ملے گا جواس کی قربانیوں سے ہزاروں گنا افضل ہوگا۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سکیم کے راستہ میں روک بن کرکھڑاہوگا۔وہ اپنے منہ کے بل گرے گااورناکامی ونامرادی کاجہنم اسے جھلس کر رکھ دے گا اوروہ اور اس کی آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کی برکات سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گی۔اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِيْ حَرَّمَهَا وَ مجھے توصرف یہ حکم دیاگیاہے کہ میں اس شہر(یعنی مکہ)کے رب کی جس کو اس (یعنی اللہ)نے معززبنادیاہے عبادت لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ١ٞ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَۙ۰۰۹۲وَ کروں اور ہرچیز اسی کے قبضہ میں ہے اورمجھے حکم دیاہے کہ میں فرمانبردار وں میں سے ہوجائوں۔اوریہ بھی کہ میں اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ قرآن پڑھ کرسنائوں۔پس جواسے سن کر ہدایت پا جائے گا تو اس کاہدایت پاناصرف اسی کی جان کے کام آئے گا لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۰۰۹۳ اورجو اسے سن کر گمراہ ہوجائے گاتوتُواسے کہہ دے کہ میں صرف ایک ہوشیارکرنےوالا (وجود)ہوں۔تفسیر۔ان آیات میں بتایاکہ خدا تعالیٰ نے مختلف مقامات کواپنی تجلیات کا مرکز بنایاہے۔کبھی وہ نوح ؑ