تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 11

ان کے ساتھیوں کی زندگی سے نہیں ملتا۔تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ۔فرماتا ہے اس سورۃ کی آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور ایک ایسی کتا ب کی آیتیں ہیں جو اپنے مضمون کوآپ کھول کر بیان کرتی ہے۔اور مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا موجب ہے۔مگر ان مومنوں کے لئے نہیں جو صرف منہ سے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں بلکہ ان کےلئے جو نماز یں قائم کرتے ہیں اور زکوٰتیں دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔اس آیت میں تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ فرماکر قرآن کریم کی ایک ایسی فضیلت کا ذکر کیاگیاہے جس سے با قی الہامی کتب کلیۃً محروم ہیں۔دنیا میںکوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جواس کثرت کے ساتھ پڑھی جاتی ہو جس کثرت کے ساتھ دنیا میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔اوریہی وہ فضیلت ہے جو تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ میں بیان کی گئی ہے۔اوربتایاگیاہے کہ یہ قرآن کی آیات ہیں یعنی اس کتاب کی آیات ہیں جس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرآن ہے یعنی وہ تلاوت میں اس قدرآتاہے کہ دنیا کی اَور کوئی کتاب اس کامقابلہ نہیں کرسکتی۔درحقیقت جو کتاب سب دنیا کو فائدہ پہنچانے والی ہو ضروری تھا کہ وہ قرآن ہویعنی کثرت سے پڑھی جانے والی ہو۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ تورات او رانجیل کے تراجم کے باوجود و ہ اس قدر نہیں پڑھی جاتیں جس قدر کہ قرآن پڑھاجاتاہے حالانکہ وہ عربی زبان میں ہے اورلوگ بھی اسے عربی زبان میں ہی پڑھتے ہیں۔مخالفین کایہ کہناکہ چونکہ ایسے ذرائع اختیار کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے لوگ اسے پڑھتے ہیں جیساکہ نمازوں وغیرہ میں پڑھنا اوراس وجہ سے اس کا پڑھا جاناایک طبعی امر ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ پھر بھی طبعی امر نہیں کیونکہ اول جس کتاب کو نماز میں پڑھنے کاحکم ہو ضروری نہیں کہ لوگ کثرت سے اس پر ایمان لے آئیں۔آخر کثرت نسبت سے ہوتی ہے۔دوسری کتب کے مقابل میں کثرت تلاوت اس کی تبھی ہوسکتی تھی جبکہ اس کے ماننے والوں کی تعداد بھی بہت ہو۔ورنہ اس کی کثرت سے تلاوت کس طرح ہوسکتی تھی۔اورلوگوں سے منوالینا توطبعی امر نہیں ہے۔سکھ لوگ گرنتھ پڑھتے ہیں مگر اس کے باوجو د وہ قرآن نہیں۔کیونکہ ماننے والے نہایت محدود ہیں۔اورکثر ت سے پڑھنے والوں کاوجود یقیناً پیشگوئی کے ماتحت آسکتاہے۔دوم۔اگر ماننے والے بھی کثرت سے ہوں تب بھی ضروری نہیں کہ لوگ حکم کوماننے والے ہوں۔مگرہم دیکھتے ہیں کہ باوجود غیر زبان ہونے کے لوگ کثرت سے اس کی تلاوت کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ بھی طبعی امر نہیں ہے۔