تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 12

سوم۔پھر سوال یہ ہے کہ جبکہ الہامی کتب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اورخدا تعالیٰ عالم الغیب ہے۔یہ تدابیر جن سے قرآن پڑھاجاتاہے اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہوسکتی تھیں۔پھر کیوں نہ ا س نے دوسری کتب کے متعلق بھی وہ تدابیر اختیار کرلیں۔یا اب کیوں وہ لوگ یہ تدابیر اختیار نہیں کرلیتے۔صاف معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتاتھا کہ یہی ایک کتاب قرآن بنے۔اورجب کتب کے نازل کرنے والے خدا نے صرف ایک کتاب کو ہی قرآن بننے کے لئے چنا ہے تویقیناً وہ افضل ہے۔چہارم۔یہ کہاجاتاہے کہ قرآن کریم کی عبارت اس قسم کی ہے کہ وہ بہ نسبت دوسری کتب کے جلد یاد ہوسکتی ہے۔اس لئے لو گ اسے زیادہ حفظ کرتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیوں نہ دوسری کتب نے بھی ا یسا ہی کرلیا اورپھر کیا اس قسم کی عبارت بنانا کوئی آسان بات ہے۔غرض قرآن کریم کا قرآن ہونا ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس میں دوسری کتب شامل نہیں۔مجھے خیال آیا کرتاہے کہ بعض آریہ مباحثوں میں قرآن کریم کی آیات پڑھ کر فخر کیا کرتے ہیں کہ دیکھو ہم تمہاری کتب پڑھ لیتے ہیں مگر تم ہماری کتاب نہیں پڑھ سکتے۔حالانکہ حقیقت میں ان کا یہ دعویٰ قرآن کریم کی تائید ہوتاہے۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ قرآن اپنے دعویٰ کے مطابق قرآن ہے اوردشمن بھی اسی کی زبان میں اسے سیکھ سکتے ہیں اورویدوںکو خود اس کے ماننے والے بھی نہیں پڑھ سکتے۔پس جونام اس کا غیر معمولی حالات میں قرآن رکھا گیاتھا وہ سچا ثابت ہوا۔اوردشمن نے خود اپنے فعل سے اس کی صداقت پر مہر لگادی۔پس یہ ہم پر ہنسی نہیں بلکہ ہماری الہامی کتاب کی تصدیق ہے۔یہ ایک عجیب امر ہے کہ سورئہ حجر میں تو الٓرٰ تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ فرمایا ہے اور اس سورۃ میں طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍفرمایا ہے۔گویا ایک جگہ کتاب کو پہلے رکھاہے اورقرآن کوبعدمیں اورمبین کی صفت قرآن کے ساتھ لگائی ہے اوردوسری جگہ قرآن کو پہلے رکھا ہے اور کتاب کو بعد میں اورمبین کی صفت کتاب کے ساتھ لگائی ہے۔یہ فرق کیوں ہے ؟ اس کے متعلق یہ امر یادرکھنا چاہیے کہ سورۃ حجر کی اس آیت کے بعد کہ تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ کفار کا ذکر ہے اورفرمایا ہے رُبَمَایَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْالَوْ کَانُوْامُسْلِمِیْنَ اور سورۃ نمل کی آیت کے بعد مومنوں کا ذکر ہے اورفرمایا ہے کہ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ اوریہ بات واضح ہے کہ کفار قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرتے۔ان کاعلم زیادہ تر مسلمانوں سے سن کر ہوتاہے اورسننے پر لفظ قرآن دلالت کرتاہے۔پس ان کے لئے قرآن مبین ہوتا