تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 10

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ (تعالیٰ) کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۲ (پڑھتا ہوں)طاہرؔ (اور) سمیع ؔ(یعنی پاک اور دعائوں کا سننے والا خدا اس سورۃ کا اتارنے والا ہے) هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَۙ۰۰۳الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ اس کی آیتیں قرآن اور مدلل کتاب کا حصہ ہیں۔(جو ) مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت (کاموجب) ہیں۔الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ (ایسے مومن)جونماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔اور زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔اور آخروی زندگی پر (یا بعد میں هُمْ يُوْقِنُوْنَ۰۰۴ آنے والی موعود باتوں پر) یقین رکھتے ہیں۔تفسیر۔اس سورۃ سے پہلے بھی حروف مقطعات طٰسٓ آئے ہیں جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں ط اللطیف کا قائم مقام ہے اور سؔ سمیع کا۔پہلی سورۃ اور اس سورۃ میں یہ فرق ہے کہ پہلی سورۃ کے آخر میں میمؔ بھی آتا تھا جو مجید کا قائم مقام تھا۔مگراس سورۃ میں اسے اڑا دیا گیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں خدا تعالیٰ کی مجد اور بزرگی پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔اور اس سورۃ میں مضمون تو مشترک ہے لیکن خدا تعالیٰ کے مجید ہونے پر اس میں اتنا زور نہیں دیا گیا جتنا پچھلی سورۃ میں دیا گیا تھا اوراس کی ظاہری دلیل یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر زیادہ کیا گیا تھا اور خدا تعالیٰ کی مجد اورا س کی بزرگی زیادہ تر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ظاہر ہوئی ہے اوراس سورۃ میںموسیٰ ؑ اور دائودؑ اور سلیمان ؑ کا ذکر کیا گیا ہے جن کے وجود سے اللہ تعالیٰ کے واقفِ اسرار روحانیہ ہونے کا ثبوت تو ضرور ملتا ہے۔اسی طرح اس کے سمیع ہونے کا بھی ثبوت ملتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مجید ہونے کا ثبوت جتنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کی زندگی سے ملتا ہے اتنا ثبوت حضرت موسیٰ ؑ حضرت دائودؑ اور حضرت سلیمانؑ یا